Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب

باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  چونکہ یہ باب متفرق احادیث پر مشتمل ہے اس لیے اس کا ترجمہ مقرر نہ کیا،اس باب میں گزشتہ باب کے متممات احادیث مذکور ہیں۔

3016 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرّيح» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس پر خوشبو تحفتہً پیش کیا جائے ۱؎ وہ اسے واپس نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا ہے خوشبو اچھی ہے ۲؎(مسلم)

۱؎  ہم نے تحفہ کی قید اس لیے لگائی کہ تجارت کی نوعیت نکل جائے،بعض عطر فروش کسی کو قیمتًا عطر پیش کرتے ہیں،اگر اسے خریدنا نہ ہو اور وہ انکارکرے تو حدیث پڑھ کر اسے خریدنے پر مجبور کرتے ہیں،وہ اس حدیث کی منشاء سے یا توواقف نہیں یا واقف ہیں مگر اس کے ذریعہ اپنا بیوپار چلانا چاہتے ہیں۔ریحان ریحٌ سے بنا بمعنی خوشبو اس سے ہر خوشبو مراد ہے،پھول ہوں یا عطر چنبیلی وغیرہ کا تیل۔

۲؎ یعنی اگرچہ دوسرے ہدیے بھی واپس کرنا خلاف اخلاق ہے مگر خوشبو واپس کرنا تو بہت ہی خشک مزاجی کی دلیل ہے کہ اس میں وزن ہلکا قیمت معمولی خوشبو اعلٰی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ خوشبو جنت سے آئی ہے اور وہاں کا ہی پتہ دیتی ہے۔مبسوط سرخسی باب اللمس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فاطمہ زہرا کو سونگھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان سے جنت کی مہک آتی ہے اسی لیے آپ کو زہراء کہتے ہیں یعنی جنت کی کلی۔

3017 -[2]

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو واپس نہ کرتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎ اس کا مطلب بھی وہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ اگر کوئی بارگاہ عالی میں ہدیۃً خوشبو پیش کرتا تو آپ اسے کبھی واپس نہ فرماتے لہذا حدیث واضح ہے۔

3018 -[3]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السوء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے ۱؎ اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۲؎(بخاری)

۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی و مالک و احمد فرماتے ہیں کہ ہبہ دی ہوئی چیز واپس لینا مطلقًا حرام ہے کیونکہ حضور انور نے اسے قے کھانے سے تشبیہ دی ہے،قے حرام چیز ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ جب تک سات مانع چیزوں میں سے کوئی چیز نہ پائی جائے تب تک ہبہ کی واپسی درست ہے اگرچہ بے مروتی اور بدخلقی ہے،امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے"الواھب احقّ بھبتہٖ مالم یصب



Total Pages: 445

Go To