$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۴؎ یعنی بہتر یہ ہوگا کہ یہ باغ فقراء پر وقف کردو کہ مالک کوئی نہ ہوں،فروخت وغیرہ کا کسی کو حق نہ ہو اور اس سے نفع سارے فقراء اٹھائیں،یہ وقف صدقہ جاریہ ہوگا۔

۵؎ قرابتداروں سے مراد یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے قرابتدار مراد ہیں یا اپنے یا دونوں۔ فقراء سے مراد عام مدینہ کے فقراء خصوصًا اہل صفہ،رقاب سے مراد مکاتب غلاموں کا بدل کتابت ادا کرکے انہیں آزاد کرنا یا مقروض کے قرض ادا کرنا،مہمانوں سے مراد غرباء اہلِ مدینہ کے گھر آنے والے مہمان جن کی وہ خاطر تواضع مہمان نوازی نہ کرسکیں،ان مہمانوں کو اس باغ کی آمدنی سے دیا جائے،اﷲ کی راہ سے مراد غازی،مسافر وغیرہ ہیں۔

۶؎ یعنی اس باغ کے منتظم و متولی کو بھی اجازت ہوگی کہ اپنی اجرت اس باغ سے لے لے کہ اسی میں سے کھائے،اپنے بچوں،دوستوں کو کھلائے مگر فساد کی نیت سے نہ ہو بلکہ اجرت وصول کرنے کی نیت سے۔

۷؎ یعنی دفع ضرورت کے لیے خرچ کرے،مال جمع نہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین یا باغ کا وقف درست ہے اور مال وقف کی نہ بیع درست ہے،نہ ہبہ،نہ تملیک،یہ بھی معلوم ہوا وقف کرنا بہت اعلٰی عبادت ہے کہ یہ صدقہ جاریہ ہے،یہ بھی معلو م ہوا کہ حضرات صحابہ کیسے مخلص مؤمن تھے کہ ہمیشہ اعلٰی کاموں میں سبقت فرماتے تھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ خیبر صلح سے حاصل نہ ہوا بلکہ جنگ سے فتح کیا گیا اسی لیے وہاں کی زمین غازیوں میں تقسیم کردی گئی،یہ بھی معلوم ہوا کہ صحت وقف کے لیے متولی مقرر کرنا لازم نہیں،دیکھو حضرت عمر نے کسی کو متولی نہ بنایا بلکہ قاعدہ مقرر فرمادیا کہ متولی کو یہ حقوق ہوں گے، یہ بھی معلوم ہوا کہ متولی وقف سے خرچ کرسکتا ہے کھا کھلا سکتا ہے۔خیال رہے کہ واقف خود بھی ایسے وقف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،حضرت عثمان غنی نے بیر رومہ وقف کیا مگر خود بھی اس کا پانی پیتے تھے  لہذا واقف اپنے وقف کردہ قبرستان میں دفن ہوسکتا ہے،اپنی مسجد میں نما ز،اپنے کنوئیں سے پانی حاصل کرسکتا ہے۔یہ حدیث بہت سے مسائل وقف کی اصل ہے۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔وقف علی الاولاد بھی درست ہے۔

3009 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا عمر بھر کو دینا جائز ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ عمرہ حج اور ہے عمرہ عطاء کچھ اور یہاں عمرہ عطاء مراد ہے۔اس کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ کوئی شخص کسی کو زمین وغیرہ اس کی عمر بھر کے لیے دے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دے کہ تیرے بعد تیرے وارثوں کی یہ بالاتفاق جائز ہے کہ موہوب لہ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کوملے گی،وارث نہ ہوں تو بیت المال کو واہب کو نہ لوٹے گی۔دوسرے یہ کہ اس کے وارثوں کا ذکر نہ کرے،یہ عمرہ ہمارے ہاں جائز ہے اور حق یہ ہے کہ امام شافعی کے ہاں بھی درست ہے،اس کا حکم پہلے عمری کا سا ہے کہ یہ بھی کسی صورت میں واہب کو نہ لوٹے گی۔تیسرے یہ کہ لوٹنے کی شرط لگادے کہ کہہ دے تیری حین حیات تک تیرے بعد میں میری،اس میں ہمارے ہاں اختلاف ہے،فتویٰ اس پر ہے کہ یہ بھی جائز ہے اور لوٹنے کی شرط باطل کہ یہ ہبہ بالشرط ہے اور ہبہ بالشرط جائز ہوتا ہے،شرط باطل ہوتی ہے،لہذا اس صورت میں بھی یہ شے موہوب لہ کی ہوگی،واہب کو نہ لوٹے گی،امام احمد کے ہاں مطلق عمرہ درست ہے مؤقت باطل،امام مالک کے ہاں عمریٰ میں منافع کی ملکیت ہوتی ہے اصل شے کی نہیں یعنی موہوب لہ اس کو برت سکتا ہے اس کا مالک نہیں مگر مذہب حنفی قوی ہے کہ اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html