$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

3007 -[17]

عَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّار» قَالَت: قلت: يَا رَسُول الله هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: «يَا حميراء أَمن أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا حلال نہیں۱؎ فرمایا پانی نمک اور آگ ۲؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ پانی کو تو ہم سمجھ گئے مگر نمک اور آگ کا یہ حکم کیوں ہے ۳؎ فرمایا اے حمیراء۴؎ جس نے کسی کو آگ دی اس نے گویا اس آگ سے پکا ہوا سارا کھانا خیرات کیا اور جس نے کسی کو نمک دیا اس نے گویا سارا وہ کھانا خیرات کیا جسے اس نمک نے لذیذ بنایا۵؎  اور جس نے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی وہاں پلایا جہاں پانی عام ملتا ہو اس نے گویا غلام آزاد کیا اور جس نے مسلمان کو وہاں ایک گھو نٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو اس نے گویا اسے زندگی بخشی ۶؎(ابن ماجہ)

۱؎ شاید ام المؤمنین اس آیت کریمہ کی تفسیر پوچھ رہی ہیں کہ"وَیَمْنَعُوۡنَ الْمَاعُوۡنَ"اور عرض کررہی ہیں کہ ماعون کیا چیز یں ہیں جن کا منع کرنا برا ہے۔

۲؎ پانی سے مراد دو ایک گلاس پانی ہے جس سے پیاسے کی پیاس بجھ سکے اور اپنی ضرورت سے زائد ہو،نمک سے بھی یہ ہی مراد ہے کہ ایک آدھ ہانڈی کا نمک کسی کو دے دینا جب کہ اپنے پاس ضرورت سے زیادہ ہو،آگ سے مراد بھی وہ آگ ہے جو ایک آدھ چنگاری کسی کو دے دی جائے جس سے وہ اپنے ہاں آگ روشن کرے،ان چیزوں کے دینے میں اپنا کچھ نقصان نہیں ہوتا،دوسرے کا بھلا ہوجاتا ہے،اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے،دینے والے کو اجر بے حساب مل جاتا ہے۔

۳؎ یعنی پانی ایک بے قیمت چیز ہے مگر اس سے دوسرے کی جان بچ جاتی ہے اس لیے اس کا منع کرنا واقعی برا ہے مگر نمک و آگ کا تو یہ حال نہیں،نمک و آگ پر پیسے خرچ ہوتے ہیں اور اس سے دوسرے کی زندگی وابستہ نہیں۔

۴؎ حمیرا احمر کا مؤنث ہے جس کا مادہ حمرۃ ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ جن احادیث میں یاحمراء ہے وہ اکثر موضوع ہیں۔

۵؎ یعنی ان مسائل میں اپنی قیاس آرائی نہ کرو کہ نمک و آگ قیمتی چیز ہے اور اس پر دوسرے کی زندگی کا دارو مدار نہیں بلکہ اس اجر کو دیکھو جو رب تعالٰی اس معمولی خیرات پر عطا فرماتا ہے،اس معمولی خیرات سے باز رہ کر اتنے بڑے اجر سے محروم رہ جانا عقلمندی نہیں،رب تعالٰی کی عطائیں ہمارے خیال وہم و سمجھ سے وراء ہیں۔

۶؎  اس فرمان عالی کا تجربہ اسے ہوگا جس نے کبھی عراق و نجد کے ریگستان کا نظارہ کیا ہو وہاں ایک گلاس پانی کی قیمت ایک جان ہے۔بعض موقعہ فقیر نے ایسے دیکھے جہاں فقیر و سائل کو پانچ روپیہ خیرات دینے کی وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک پیالہ پانی دینے کی خوشی ہوتی ہے، واقعی ایک پیالہ پانی ایک جان بچالیتا ہے۔اس کی تفصیل ہماری کتاب "سفرنامہ" میں ملاحظہ کیجئے۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html