Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ اس جملہ میں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ اپنا کھودا ہوا کنواں یا اپنا جمع کیا ہوا پانی اپنی ملکیت ہے جسے فروخت کرنا بلاکراہت جائز ہے۔ ید سے مراد کوشش اور محنت ہے۔

الفصل الثانی 

دوسری فصل

2996 -[6]

عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا جو کسی زمین پر احاطہ بنائے تو وہ زمین اسی کی ہوگی ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یہاں ارض سے مراد ہے زمین موات ہے جو نہ کسی کی ملک ہو نہ رفاہ عام کی ہو۔احاطہ سے مراد اپنے یا اپنے جانوروں کے رہنے کے مکان کے لیے احاطہ ہے یعنی جو شخص غیر مملوک زمین میں اپنے مکان یا اصطبل کے لیے دیوار کھینچ لے وہ زمین اس کی ہوگی،یہ ہی مذہب امام احمد کا ہے کہ ان کے ہاں صرف دیوار کھینچ لینا ملکیت کے لیے کافی ہے،دیگر اماموں کے ہاں صرف دیوار کھینچ لینا کافی نہیں احیاء یعنی آباد کرنا ضروری ہے اس لیے وہ حضرات دیوار سے مکان کی دیوار مراد لیتے ہیں اور لہٗ سے مراد عارضی ملکیت ہے کہ ایسی زمین میں مکان بنالینے والا جب تک رہے گا زمین حکومت کی ہوگی۔(لمعات،اشعہ،مرقات)

2997 -[7]

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ نخيلا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو کھجور کے درخت بطور جاگیر بخشے ۱؎(ابو داؤد)

۱؎  اقطاع کے معنی ہیں کسی کو قطعہ زمین بخشنا یا تو بالکل مالک کرکے یا وہاں رہنے سہنے کی اجازت دینا یہاں پہلے معنی مراد ہیں اور نخیل سے مراد نخلستان ہے یعنی درخت کھجور وغیرہ زمین بطور جاگیر عطا فرمائے،یہ باغ یا تو اس خمس سے تھا جو حضور انور کی ملک تھا یا زمین موات تھی حضرت زبیر نے اسے آباد کیا۔(لمعات،مرقات)

2998 -[8]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ: «أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت زبیر کو ان کے گھوڑے کی حد دوڑ تک جاگیر بخشی ۱؎  زبیر نے اپنا گھوڑا چھوڑا حتی کہ ٹھہر گیا پھر اپنا کوڑا پھینکا حضور نے فرمایا جہاں کوڑا پہنچا وہاں تک کی زمین انہیں دے دو ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ حضر ح کے پیش ضاد کے سکون سے بمعنی دوڑ،یہاں قدر پوشیدہ ہے یعنی گھوڑے کی دوڑ کی بقدر کو گھوڑا چھوڑو جہاں رک جائے وہاں تک کی زمین تمہاری۔

۲؎ یعنی پہلے گھوڑا چھوڑا جہاں وہ رکا وہاں سے کوڑا پھینکوایا،جہاں کوڑا پہنچا وہاں تک کی یہ مجموعہ زمین حضرت زبیر کو بخش دی۔ظاہر یہ ہے کہ بالکل ہی بخش دی،مالک بنادیا کہ نسلًا بعد نسل ان کی ہی ہو،صرف رہنے کے لیے عارضی طور پر نہ دی،امام شافعی فرماتے ہیں کہ



Total Pages: 445

Go To