$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2993 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ» فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أحفظه الْأنْصَارِيّ وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ

روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے ایک انصاری شخص سے حرہ کی نال کے متعلق جھگڑا کیا۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے زبیر تم پانی دے لو پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو۳؎ انصاری نے کہا کہ وہ آپ کے پھوپھی زاد جو ہوئے ۴؎  اس پر حضور کے چہرے کا رنگ بدل گیا۵؎ پھر فرمایا اے زبیر پانی دو پھر پانی روک لو حتی کہ مینڈھ تک لوٹ جائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۶؎ یعنی اب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے زبیر کو اپنا پورا حق لینے کا صریح حکم دیا جب کہ انصاری نے آپ کو ناراض کردیا حالانکہ حضور نے ان دونوں کو وہ مشورہ دیا تھا جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎  آپ عروہ ابن زبیر ابن عوام ہیں،تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات فقہاء سے ہیں،آپ کی والدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق ہیں اور زبیر حضرت صفیہ کے فرزند ہیں،حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب حضور انور کی پھوپھی ہیں،حضرت زبیر سولہ برس کی عمر میں اسلام لائے،سب سے پہلے اﷲ کی راہ میں تلوار آپ نے چلائی،احد کے دن حضور انور کے پاس سے نہ ہٹے، عمرو ابن جرموز نے آپ کو قتل کیا،۲۴ سال عمر پائی،  ۳۶ھ؁  میں جنگ صفین میں شہید ہوئے،اولًا وادی سباع میں دفن کیے گئے،پھر وہاں سے بصرہ منتقل کردیئے گئے،آپ کی قبر زیارت گاہ خلق ہے،فقیرنے زیارت کی ہے۔(ازمرقات)

۲؎  پتھریلی زمین کو حرہ کہتے ہیں،قدرتی پہاڑی نالہ شراح کہلاتا ہے،ان دونوں صاحبوں کے کھیت برابر تھے جو اس نالے سے سینچے جاتے تھے،جھگڑا ہوا آگے پانی دینے کا،انصاری کہتے تھے پہلے میں پانی دوں،زبیر فرماتے ہیں پہلے میں دوں۔

۳؎ کیونکہ آپ کا کھیت اوپر تھا جدھر سے پانی آتا تھا اور انصاری کا کھیت نیچے بہاؤ کی طرف اور اوپر والا پہلے پانی دیتا ہے۔

۴؎ یعنی آپ نے اس فیصلہ میں ان کی قرابت داری کا لحاظ فرمایا ہے یعنی شارحین نے فرمایا کہ یہ شخص قوم انصار سے تو تھا مگر مؤمن نہ تھا یا یہودی تھا یا منافق مگر ترجیح اسے ہے کہ تھا تو مسلمان مگر نو مسلم تھا،آداب بارگاہ سے بے خبر تھا اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم یا دوسرے صحابہ نے اسے کوئی سزا نہ دی۔(مرقات) اشعہ نے فرمایا یہ منافق ہی تھا جیسے عبداﷲ ابن اُبی کہ قبیلہ انصار سے تھا مگر منافق تھا قتل اس لیے نہ کرایا کہ منافقوں کو قتل نہ کرایا جاتا تھا۔ واﷲ اعلم!

۵؎ یعنی حضور انور کو اس کے اس کلام سے بہت ہی تکلیف ہوئی حتی کہ چہرہ انور سرخ ہوگیا،منافقوں،ناواقفوں سے بسااوقات حضور انور ایسی باتیں سن لیتے تھے تکلیف ہوتی تھی مگر صبر فرماتے تھے۔

۶؎ پہلے تو فرمایا تھا کہ اے زبیر اپنی زمین تر کرکے پانی انصاری کو دے دو اب پورا حق زبیر کو عطا فرمایا کہ پہلے تم اپنے کھیت کو پانی دو، پھر اتنی دیر تک پانی روکے رکھو کہ کھیت آس پاس کی مینڈھ(بنّا)تک پہنچ جائے اور کھیت لبریز ہوجائے تب انصاری کو دو۔

۷؎ یعنی پہلے انصاری کی رعایت کی گئی تھی اور حضرت زبیر کو حسن اخلاق کی تعلیم دی گئی تھی مگر جب انصاری نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ الٹا ناراض ہوگیا تو ہر ایک کو پورا حق دیا گیا،پہلے فضل تھا اب عدل۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اپنا حق معاف کردینا اور اپنے مجرم کو سزا نہ دینا اخلاق صحابہ اور اخلاق محمدی ہیں۔دوسرے یہ کہ غصہ کی حالت میں فیصلہ کرنا حضور کے لیے جائز تھا ہمارے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html