Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب احیاء الموات و الشرب

باب بنجر زمین کا  آباد کرنا اور پانی دینا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  موات وہ زمین کہلاتی ہے جو نہ تو کسی کی ملک ہو نہ بستی والوں کی ضروریات کے لیے ہو،نہ اس پر کوئی کاشت وغیرہ کرتا ہو۔موات کا مقابل عامر ہے یعنی آباد زمین،شرب شین کے کسرہ سے پانی کا حصہ یا پانی کی باری یا پانی دینے کا حق۔موات زمین آباد کرنے کا حکم پہلے گزرچکا کہ اگر سلطان اعلان کردے کہ جو یہ زمین آبادکرے وہ اسی کی ہے تب تو آباد کرنے والامالک ہوگا ورنہ نہیں،امام شافعی کے ہاں مالک ہوگا۔

2991 -[1]

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ» . قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِهِ عُمَرُ فِي خِلَافَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایاجو کسی ایسی زمین کو آباد کرے ۱؎ جو کسی کی ملک نہ ہو تو وہ ہی اس کا حقدار ہے،عروہ فرماتے ہیں کہ جناب عمر نے اپنی خلافت میں اسی پر فیصلہ کیا ۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی بادشاہ کی اجازت سے آباد کرے۔(احناف)

۲؎ ہمارے ہاں یہ دونوں فرمان سیاسی تھے یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانہ پاک میں اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں قانون نافذ فرمادیا تھا،اب بھی اگر سلطان یہ قانون نافذ کردے تو یہ ہی حکم ہوگا کہ جو ایسی زمین آباد کرے گا وہ مالک ہوگا،امام شافعی کے ہاں یہ حکم شرعی تھا اب بادشاہ اسلام یہ قانون بنائے یا نہ بنائے زمین آباد کرنے والا اس کا مالک ہوگا۔لَیْسَت لِاَحَدٍ کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو وہ زمین کسی کو ملک ہو نہ شہر کی ضروریات کے لیے ہو لہذا حدیث ظاہر ہے۔

2992 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے فرمایا ۱؎ کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ چراگاہیں اﷲ اور رسول ہی کی ہیں ۲؎ (بخاری)

۱؎  جثامہ جیم کے فتح،ث کے شد و فتح سے،حضرت صعب ابن جثامہ لیثی ہیں،صحابی ہیں،ودان اور ابواء میں رہتے تھے،خلافت صدیقی میں وفات پائی۔

۲؎ رؤسائے عرب اپنے جانوروں کے لیے خاص چراگاہیں مقرر کرلیتے تھے جن میں انکے سواء کوئی اپنے جانور نہ چراسکتا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا۔اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ چراگاہیں بنانے کا حق صرف اﷲ رسول ہی کو ہے دوسرے کو نہیں تو حضور انور اپنے جانوروں کے لیے چراگاہیں مقرر کرسکتے ہیں لیکن آپ نے کبھی مقرر فرمائیں نہیں۔دوسرے یہ کہ صرف جہاد کے جانوروں ہی کے لیے چراگاہیں مقرر ہوسکتی ہیں اپنے نجی جانوروں کے لیے نہیں ہوسکتی۔تیسرے یہ کہ کوئی شخص اﷲ رسول کی بغیر اجازت چراگاہ نہ بنائے کہ چراگاہ بنانے،اجازت دینے کا حق اﷲ رسول ہی کو ہے۔خیال رہے کہ اﷲ کا ذکربرکت کے لیے ہے،چراگاہ کی اجازت صرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے حاصل کی جائے گی۔

 



Total Pages: 445

Go To