$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2990 -[10]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ جنہیں میں کتاب اﷲ یعنی قرآن سکھاتا تھا ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان دی ہے ۱؎ یہ کوئی بڑا قیمتی مال نہیں ہے اس پر میں اﷲ کی راہ میں تیر پھینکوں گا فرمایا اگر تم آگ کا ہار پہنایا جانا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کرلو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی ایک طالب علم نے مجھے بطور ہدیہ کمان دی ہے،معمولی چیز ہے اور میں نے بھی جہاد کے لیے رکھی ہے اس کی تجارت نہیں کرتا،ارشاد ہوا کہ مجھے اس کا لینا درست ہے یا نہیں اور کمان آیا تعلیم قرآن کی اجرت ہے یا کچھ اور۔

۲؎ یعنی یہ کمان بظاہر ہدیہ ہے مگر درحقیقت گزشتہ تعلیم کی اجرت ہے اور تعلیم قرآن پر اجرت لینا ممنوع ہے۔یہ حدیث حضرت امام ابوحنیفہ وغیرہم رضی اللہ عنہم کی دلیل ہے کہ  تعلیم قرآن پر اجرت لینا ممنوع ہے بلکہ وہ حضرات تو مطلقًا علم دین سکھانے پر اجرت منع فرماتے ہیں،متاخرین احناف نے اسے جائز فرمایا تاکہ دین ضائع نہ ہوجائے۔خیال رہے کہ پچھلی احادیث میں قرآن شریف سے علاج دم درود پر اجرت جائز فرمائی گئی تھی،یہاں تعلیم قرآن کی اجرت سے ممانعت ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں شیخ نے فرمایا کہ وہ احادیث بیان جواز کے لیے تھیں اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیے یعنی تعلیم قرآن پر اجرت جائز تو ہے مگر بہتر نہیں یا یہ مطلب ہے کہ تم نے قرآن شریف پڑھایا تھا فی سبیل اﷲ اس وقت تمہاری نیت اجرت کی قطعًا نہ تھی جو کام اﷲ کے لیے کر چکے ہو اب اس پر اجرت لے کر اسے بگاڑتے کیوں ہو۔واﷲ اعلم!مرقات نے فرمایا کہ الکتاب سے مراد یا تو قرآن شریف ہے یا کتابت یعنی لکھنے کی تعلیم۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html