$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

دیکھا کہ مدینہ سے آنے والوں کی آنکھیں لوگ چومتے ہیں،ان کے ہاتھ پیروں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں،یہ نئی بات نہیں زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چلی آرہی ہیں۔خیر سے مراد دین اور دنیا کی بھلائی ہے اسی لیے ان لوگوں نے دوا کا ذکر بھی کیا اور دعا کا بھی۔

۳؎  اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے آستانے بوسوں سے فریادکرنا اور ان پر اپنے دکھ درد پیش کرکے دفعیہ کے لیے عرض کرنا سنت صحابہ ہے،وہ ایسا دیوانہ تھا جسے باندھنا پڑ گیا تھابالکل ہی مخبوط الحواس۔

۴؎  اب بھی بعض صوفیاء کچھ پڑھ کر بیمار پر تھپکار دیتے ہیں ان  کی دلیل یہ حدیث ہے بعض صرف پھونک مار دیتے ہیں اس کی روایتیں بھی ہیں۔منشاء یہ ہوتا ہے کہ جیسے پھولوں سے لگ کر ہوا مہک جاتی ہے اور دور تک لوگوں کے دماغ معطر کردیتی ہے،ایسے ہی قرآن والے منہ میں رہ کر ہوا یا تھوک میں شفا کی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے،بھٹی کے پاس ہوا گرم ہوتی ہے،پانی کے پاس ٹھنڈی،ایسے ہی قرآن کے پاس کی ہوا شافی ہوتی ہے۔خیال رکھیئے کہ جانوروں کے نام میں تاثیر ہے،کسی کو شیر کہہ دیا خوش ہوگیا،گدھا کہہ دیا ناراض ہوگیا تو کیا خالق کے ناموں میں تاثیر نہ ہوگی،ضرور ہوگی۔

۵؎ یعنی میرے دم سے اتنا فائدہ ہوا کہ اسے بالکل ہی آرام ہوگیا گویا مرض نے اسے جکڑ رکھا تھا اس دم سے کھل گیا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ چند ساعتوں کی صحبت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے علم،عمل وغیرہ سب کچھ ہی لے آتے تھے۔خیال رہے کہ اسے اجرت کہنا مجازًا ہے درحقیقت یہ نذرانہ تھا اجرت پہلے طے کی جاتی ہے۔

۶؎ معلوم ہوا کہ ناجائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے حق دم درود پر اجرت بھی جائز نذرانہ بھی۔لَعُمْرِیْ قسم شرعی نہیں وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ"انجیر اور زیتون کی قسم، لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیر خداکی قسم نہ کھاؤ، لِمَنْ اَکَلَ کی خبر محذوف ہے۔

2987 -[7]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«أعْطوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ».رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے دے دو   ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی مزدوری دینے میں ٹال مٹول نہ کرو جس وقت دینے کا معاہدہ ہو اسی وقت دے دو بلا تاخیر لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ اگر مزدور کو پسینہ نہ آیا ہو تو اسے مزدوری دو ہی نہیں،نہ یہ سوال ہے کہ ماہوار تنخواہیں دینا منع ہیں، ہر دن کام کرتے ہی دے دی جائیں،حدیث کی فہم کے لیے عقل کامل ضروری ہے۔

2988 -[8]

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَفِي المصابيح: مُرْسل

روایت ہے حضرت حسین ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مانگنے والے کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر آئے ۱؎(احمد،ابوداؤد)۲؎ اور مصابیح میں مرسل ہے ۳؎

۱؎ یعنی اگر کسی سائل بھکاری پر آثار غناہوں اور وہ اپنے کو فقیر ظاہر کرے تو اس کی بات پر اعتماد کرکے اسے صدقہ دے سکتے ہو،بہت دفعہ انسان کے پاس گھوڑا ہوتا ہے مگر اس کا سامان گرو اور قرض سر پر سوار ہوتا ہے اس لیے اس کا ظاہری حال نہ دیکھو اس کی بات کا



Total Pages: 445

Go To
$footer_html