$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ کھانے کا ذکر اتفاقی ہے وہ قیمت کھائے یا نہ کھائے،آزاد کو غلام بنا کر فروخت کردینا ویسے ہی بہت برا ہے،یوسف علیہ السلام کے بھائی اسی جرم پر زیادہ شرمندہ تھے جن کی معافی ہوئی۔

۴؎  کام پورا لینے میں اسی جانب اشارہ ہے کہ اگر مزدور ہی بیچ میں کام چھوڑ دے شرارۃً تو وہ مزدوری کا حقدارنہیں،نائی آدھی حجامت کرکے انکارکردے تو بجائے اجرت کے سزا کا مستحق ہوگا،کام پورا کرنے پر اجرت کا مستحق ہوگا،روزانہ اجرت دی جائے یا ماہوار جو طے ہوگیا ہو۔

2985 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فبهم لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِن فِي المَاء لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَة الْكتاب على شَاءَ فبرئ فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ: «أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت کسی گھاٹ پر گزری ۱؎ جس میں ایک سانپ یا بچھو کا ڈسا ہوا تھا تو گھاٹ والوں میں سے ایک شخص ان کے پاس آکر بولا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے گھاٹ میں ایک شخص بچھو یا سانپ کا کاٹا ہوا ہے ۲؎ تو صحابی میں سے ایک صاحب کچھ بکریوں کی شرط پر چلے گئے ۳؎ سورۂ فاتحہ پڑھ دی وہ اچھا ہوگیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس کچھ بکریاں لائے صحابہ نے ناپسند کیں ۴؎ وہ بولے تم نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے بولے یا رسول اﷲ انہوں نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یقینًا اجرت لینے کی سب سے زیادہ لائق کتاب اﷲ ہے ۵؎(بخاری)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے ٹھیک کیا بانٹ لو اور اپنے ساتھ ہمارا حصہ بھی رکھو ۶؎

۱؎  اس گھاٹ پر کوئی قبیلہ آباد تھا،اب بھی عرب میں کنوؤں پر بستیاں آباد ہوتی ہیں جو پانی کی تجارت سے گزارہ کرتی ہیں۔عربی میں لدیغ بچھو کاٹے کو کہتے ہیں،سلیم سانپ کاٹے کو نیک فال کے لیے کہ اﷲ اسے سلامت رکھے۔

۲؎ اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جھاڑ پھونک دم درود کا زمانہ صحابہ میں تھا۔دوسرے یہ کہ لوگوں کو پتہ تھا کہ صحابہ کرام دم درود کرتے تھے اور قرآن شریف اور دعاؤں میں تاثیر ہے،یہ گھاٹ والے مسلمان نہ تھے جیسا کہ دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے۔

۳؎یعنی ان صحابی نے پہلے طے فرمالیا کہ ہم دم کردیں گے اور ان شاءاﷲ تمہارا بیمار اچھا ہوجائے گا مگر تیس بکریاں لیں گے وہ راضی ہوگئے۔یہ بھی اجارہ ہوا اسی لیے یہ حدیث باب الاجارہ میں میں لائی گئی۔اگر بغیر طے کیے یہ بکریاں تھیں تو وہ ہدیہ یا نذرانہ ہوتا نہ کہ اجرت۔

۴؎ یعنی رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا"میر ی آیات تھوڑی قیمت کے عوض نہ فروخت کرو یہ بھی فروخت کی ایک صورت ہے لہذا یہ معاوضہ درست نہ ہوا۔

۵؎ یعنی ناجائز کام پر اجرت لینا منع ہے،قرآن کریم پڑھنا یا اس سے علاج کرنا منع نہیں تو اس کی اجرت کیوں منع ہوگی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)قرآنی آیات سے علاج جائز ہے خواہ دم کرکے ہو یا تو تعویذ لکھ کر یا گنڈا کر کے،کہ دھاگے وغیرہ پر دم کردے اور دھاگہ



Total Pages: 445

Go To
$footer_html