$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2983 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:«نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَى عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ اﷲ نے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎ صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)

۱؎ بکریاں چَرانے سے طبیعت میں حلم و بردباری،محنت کا شوق،ملکی انتظام کی قابلیت اور رعایا پروری پیدا ہوتی ہے کہ بکریاں ہر وقت محافظ کی حاجت مند ہوتی ہیں اور ان میں انتظام نہیں ہوتا،ہر ایک جدھر منہ اُٹھا چل دیتی ہے،جو انہیں سنبھال لے گا،وہ ان شاءالله تعالٰی رعایا کو بھی سنبھال لے گا،تبلیغ خوب کرسکے گا،عام طور پر رعایا کو بکریاں سے اور بادشاہ کو چرواہے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

۲؎ قراریط قیراط کی جمع ہے،قیراط دینار کا بیسواں حصہ یا چوبیسواں حصہ ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل مکہ کی بکریاں ایک قیراط روز یا ماہوار کے عوض چرائی ہیں۔خیال رہے کہ نبی تبلیغ دین پر اجرت نہیں لیتے،دوسرے کاموں پر اجرت لیتے ہیں لہذا یہ حدیث قرآن کریم کی آیت"لَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا"کے خلاف نہیں کہ وہاں علیہ سے مراد دین کی تبلیغ ہے،بعض لوگوں نے کہا کہ قراریط مکہ معظمہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضور انور بغیر اجرت بکریاں چَراتے تھے مگر یہ درست نہیں،ورنہ یہ حدیث باب الاجارہ میں نہ لائی جاتی لہذا حق یہ ہی ہے کہ قراریط قیراط کی جمع ہے۔(مرقات و لمعات وغیرہ)اشعہ میں شیخ نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے نبوت بادشاہوں و امیروں میں نہ رکھی بلکہ بکری چَرانے اور تواضع کے پیشہ کرنے والوں میں رکھی۔چنانچہ ایوب علیہ السلام درزی گری کرتے تھے،زکریا علیہ السلام بڑھئی پیشہ۔

2984 -[4]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مدمقابل ہوں گا ۱؎  ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے ۲؎ دوسرا وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے۳؎ تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام پورا لے اور اس کی مزدوری نہ دے ۴؎(بخاری)

۱؎  یعنی سخت سزا دوں گا جیسے کوئی دشمن اپنے دشمن پر قابو پائے تو اس کی کوئی رعایت نہیں کرتا،ایسے ہی میں انکی رعایت و رحم نہ کروں گا لہذا یہ حدیث واضح ہے۔

۲؎ اس کی بہت صورتیں ہیں:کسی کو خدا کا نام لے کر امان دی پھر موقعہ پاکر اسے قتل کردیا،کسی سے رب کی قسم کھا کر کوئی وعدہ کیا پھر پورا نہ کیا،عورت سے رب تعالٰی کا نام لے کر بہت سے وعدوں پر نکاح کیا،پھر وہ ادا نہ کیے،اسی لیے نکاح کے وقت کلمے پڑھاتے ہیں کہ دونوں خاوند بیوی حقوق میں جکڑ جائیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللہِ مِنۡۢ بَعْدِ مِیۡثٰقِہٖ"۔غرضکہ وعدہ خلافی یوں ہی بری ہے مگر جب وعدہ رب تعالٰی کا نام لے کر کیا گیا ہو،پھر خلاف کرنا زیادہ برا کہ اس میں اﷲ تعالٰی کے نام شریف کی بے حرمتی بھی ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html