Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الاجارۃ

کرایہ کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  نفع عوض پر فروخت کرنا شرعًا اجارہ کہلاتا ہے۔قیاس چاہتاہے کہ اجارہ جائز نہ ہو کہ اس میں معدوم کی فروخت ہے مگر شریعت نے ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسے جائز قرار دیا،نص کے مقابل قیاس قابل عمل نہیں جیسے دائی کو روٹی کپڑے پر نوکر رکھنا جائز ہے اگرچہ اس کا دودھ بھی نامعلوم ہے اور روٹی کپڑا بھی غیر مقرر مگر ضرورۃً جائز یا جیسے حمام میں اجرت پر غسل کہ اگرچہ پانی کی مقدار معلوم نہیں مگر ضرورۃً جائز قرار دیا گیا،اسی طرح یہ بھی ہے۔

2981 -[1]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: زَعَمَ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ ثابت ابن ضحاک نے فرمایا ۲؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھیتی کرانے سے منع فرمایا ۳؎ اور زمین کرایہ پر دینے کی اجازت دی اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم)

۱؎ مغفل بروزن محمد،غین اور ف سے،آپ صحابی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا،عہد فاروقی میں آپ کو بصرہ بھیج دیا گیا،وہاں ہی   ۶۰ھ؁  میں وفات ہوئی،بعض نسخوں میں عبداﷲ ابن معقل عین و قاف سے ہے،سکون عین سے قاف کے کسرہ سے وہ تابعین میں سے ہیں۔(اشعہ و مرقات)

۲؎  آپ کانام ثابت،کنیت ابو یزید ہے،انصاری خزرجی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے اس وقت نو عمر تھے،فتنہ عبداﷲ ابن زبیر کے زمانہ میں وفات پائی،     ۳ھ؁  میں پیدائش ہے،  ۷۰ھ؁ میں وفات۔

۳؎ اس ممانعت کی وجہ پہلے ہوچکی کہ اگر کسی خاص حصہ زمین کی پیداوار کو اجرت قرار دیا جائے تو مزارعت ممنوع ہے ورنہ جائز،یہاں وہ ہی ممنوع صورت مراد ہے۔

۴؎ یعنی زمین کو نقد روپیہ میں کرایہ پر دینا بلا کراہت درست۔

2982 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فَأَعْطَى الْحَجَّامَ أجره واستعط

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو مزدوری دی ۱؎ اور نسوارلی ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ آپریشن(Operation)پچھنے سینگی لگوانا جائز ہے اس کی اجرت بھی مباح۔جن احادیث میں اس کی اجرت سے ممانعت آئی وہ تمام منسوخ ہیں۔

۲؎  استعط باب افتعال کا ماضی ہے،سعوط ہر وہ دوا ہے جو ناک میں چڑھائی جائے پتلی ہو یا خشک،اس سے نسوار کا جواز معلوم ہوا البتہ حرام یا مکروہ چیز کی نسوار سے بچے۔

2983 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» . فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:«نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَى عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ اﷲ نے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎ صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To