Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2978 -[7]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قوم إِلَّا أدخلهُ الذل» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی باڑی کا سامان دیکھا ۱؎ تو فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ چیزیں کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں گی مگر اﷲ اس گھر میں ذلت ڈال دے گا۲؎(بخاری)

۱؎ یا تو کسی گھر میں رکھے ہوئے دیکھے یا کسی کو وہ آلات استعمال کرتے ملاحظہ فرمایا۔

۲؎ یہ فرمان عالی شان اس زمانہ کا ہے جب اسلام میں جہاد کی سخت ضرورت تھی ایسے موقعہ پر تمام کاروبار بند کرکے جہاد کیے جاتے ہیں یعنی جس قوم نے فوجی طاقت گم کردی اور کھیتی باڑی میں مصروف ہوگئے تو ذلیل ہوجائیں گے،دنیا میں وہ ہی قوم زندہ رہتی ہے جس کی زندگی سپاہیانہ ہو۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2979 -[8]

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ۱؎ کہ جو کسی کی زمین بغیر اس کی اجازت سے کھیتی کرے تو اسے کھیت سے کچھ نہ ملے گا ہاں ا سے خرچ مل جائے گا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎

۱؎ اس طرح کہ مالک زمین کو یا تو خبر ہی نہ ہو اور یہ وہاں تخم بودے یا مالک منع کرتا رہے اور یہ بیج ڈال دے،بغیر اذن ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔

۲؎ خرچ سے مراد تخم کی قیمت،پانی اور اس کی اپنی محنت کا کرایہ ہے،حضرت امام احمد کا یہی مذہب ہے کہ ایسی صورت میں پیداوار زمین والے کی ہے اور تخم پانی حق خدمت کاشتکار کو دلوادیا جائے،باقی اماموں کے ہاں پیداوار تخم والے کی ہے اور زمین والے کو اتنے عرصہ کا کرایہ زمین دلوایا جائے گا یا اگر اس کاشت سے زمین ناقص ہوگئی تو نقصان دلایا جائے گا کیونکہ پیداوار تخم کا نتیجہ ہے زمین تو اس کا ظرف ہے،یہ حدیث چونکہ صحیح نہیں اس لیے ان بزرگوں نے اس پر عمل نہ فرمایا۔(مرقات مع زیادۃ)

۳؎  اور شرح سنہ میں فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے،احمد نے فرمایا کہ بغیر اذنہم حدیث میں نہیں ہے،ابو اسحاق نے یہ زیادت اپنی طرف سے کی ابواسحاق،رافع ابن خدیج سے راوی ہیں۔(مرقات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2980 -[9]

عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ ابْن عبد الْعَزِيز وَالقَاسِم وَعُرْوَة وَآل أبي بَكْرٍ وَآلُ عُمَرَ وَآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلَى: إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ من عِنْده فَلهُ الشّطْر. وَإِن جاؤوا بالبذر فَلهم كَذَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت قیس ابن مسلم سے وہ حضرت ابوجعفر سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں مدینہ میں ایسا کوئی گھر والا مہاجر نہیں جو تہائی یا چوتھائی پر کھیتی نہ کرتا ہو اور حضرت علی اور سعد ابن مالک، عبداﷲ ابن مسعود،عمر ابن عبدالعزیز، قاسم،عروہ اور ابوبکر و عمر و علی کی اولاد نے اور ابن سیرین نے کھیتیاں کرائیں ۲؎ اور عبدالرحمن ابن اسود کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن ابن یزیدکے ساتھ کھیتی میں شرکت کرلیتا تھا ۳؎ اور حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر معاملہ کیاتھا کہ اگر عمر اپنے پاس سے بیچ دیں تو انہیں آدھی پیداوار اور اگر وہ لوگ بیچ دیں تو انہیں اتنی پیداوار  ۴؎ (بخاری)۵؎

 



Total Pages: 445

Go To