$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ کیونکہ اس میں کسی کو کوئی دھوکہ نہیں۔اس کرایہ کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زمین والا مزارع کو حق خدمت روپیہ سے ادا کرے۔دوسرے یہ کہ مزارع پیداوار ساری خود لے لے اور مالک کو نقد روپیہ دے،دونوں صورتیں جائز ہیں ان پر آج کل بھی عمل ہے۔

۶؎ غالبًا یہ کلام حضرت رافع ابن خدیج کا ہے یا کسی اور کا۔

۷؎  مخاطرہ خطر سے بنا بمعنی دھوکا یا ہلاکت یا اندیشہ،جوئے کو مخاطرہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہاں فریقین کو دھوکا ہوتا ہے کہ ہر ایک اندیشہ و فکر کرتا ہے کہ نہ معلوم میں ہاروں یا جیتوں،ایسے ہی یہاں ہے کہ زمین والے کو بھی اندیشہ ہے کہ شاید میرے حصہ کی زمین میں پیداوار بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو،ایسے ہی مزارع کو دھوکا ہے وہ اندیشہ کرتا ہے کہ نہ معلوم کہ میرے حصہ کی زمین میں پیداوار ہو کہ  نہیں اور ہو تو کتنی ہو اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا اور اگر مطلقًا پیداوار کے مقرر حصے پر زمین دی کہ کل پیداوار کا آدھا یا تہائی تیرا باقی میرا تو بالکل جائز ہے کہ اس میں نہ کسی کو اندیشہ ہے نہ دھوکا،نقصان ہوا تو دونوں کا،نفع ہوا تو دونوں کا۔

2975 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ فَنَهَاهُمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ والے زیادہ زمیندار تھے ۱؎ اور ہم میں سے بعض اپنی زمین کرایہ پردیتے تھے وہ کہتا تھا یہ ٹکڑا میرا ہے اور یہ تمہارا ہے ۲؎ تو بہت دفعہ اس ٹکڑا میں پیداوار ہوتی تھی اور اس میں نہ ہوتی تھی۳؎ اس لیے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا۴؎(مسلم، بخاری)

۱؎  یعنی زمینوں کے مالک،پنجاب میں کاشتکار کو زمیندار کہتے ہیں وہ معنے یہاں نہیں۔عربی میں حقل زمین کو کہتے ہیں اور محاقلہ بالی میں دانہ کی بیع دوسرے کھلے دانہ کے عوض۔

۲؎ یعنی اے مزارع اس میں جو پیداوار ہوگی وہ بحق مالکانہ میری ہے اور اس ٹکڑے میں جو پیداوار ہوگی وہ بحق خدمت تیری،دونوں جگہ دکھا کر معین کردیتے تھے۔

۳؎ اس لیے کبھی زمین کا مالک محروم ہوجاتا تھا اور کبھی مزارع محروم،پھر جھگڑے فساد ہوتے تھے کہ محروم دوسرے کے حصے سے لینا چاہتا تھا وہ دیتا نہ تھا جیساکہ ہارا ہوا جواری جیتے ہوئے سے لڑپڑتاہے جس سے مار پٹائی بلکہ کبھی قتل وخون ہوجاتاہے۔

۴؎  اور جھگڑے فساد کی جڑ کاٹ دی۔

2976 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عَمْرو قَالَ: قلت لطاووس: لَوْ تُرِكَتِ الْمُخَابَرَةُ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ: أَيْ عَمْرٌو إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُعِينُهُمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ ينْه عَنهُ وَلَكِن قَالَ: «أَلا يَمْنَحْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا»

روایت ہے حضرت عمرو سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے طاؤس سے کہا ۲؎ کاش آپ کھیتی کرانا چھوڑ دیتے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے۳؎ وہ بولے اے عمرو میں انہیں زمین دیتا ہوں اور ان کی مدد کرتا ہوں ۴؎ اور صحابہ کے بڑے عالم نے مجھے خبر دی ہے یعنی حضرت ابن عباس نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع نہ فرمایا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کا اپنے بھائی کو عاریۃً زمین دے دینا کچھ مقرر اجرت لینے سے بہتر ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html