Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ شکا الف سے بھی لکھا جاتاہے،یہ شکوت سے بنا اور شکیٰ ی سے بھی جو شکیت سے بنا شکوت و شکیت دونوں لغتیں درست ہیں۔مشکوٰۃ شریف کے اس نسخے میں سے ہے۔ارق مطلقًا بے خوابی کو کہتے ہیں خواہ فکر یا رنج سے ہو یا خشکی سے،خوشی سے بے خوابی ارق نہیں کہلاتی کہ وہ بیماری نہیں،یہاں وسوسہ یا فکر سے نہ سونا مراد ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعا سکھائی،اگر خشکی سے ہوتی تو دوا بتائی جاتی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم حکیم روحانی بھی ہیں حکیم جسمانی بھی،حضرت خالد کو کئی راتوں سے نیند نہ آئی تھی یا وسوسوں سے یا رنج و گم سے آپ پریشان ہوگئے تھے تب یہ عرض کیا۔

۲؎ اس چھوٹے سے جملے میں تمام عالم اجسام کی چیزیں داخل ہیں آسمان میں فرشتے وغیرہ آگئے آسمان کے زیر سایہ ہیں۔تمام فضا کی چیزیں و زمین اور زمینی چیزوں میں زمین پر اور زمین کے اندر کی تمام چیزیں داخل ہوگئیں۔

۳؎  شیاطین سے مراد گمراہ کن چیزیں ہیں آدمی ہوں یا جنات،اس سے عام چیزیں مراد ہیں خواہ عقل والی ہوں یا غیر عاقل،اگرچہ یہ چیزیں بھی پہلے جملے میں داخل تھیں مگر خصوصیت سے ان کا ذکر علیحدہ کیا گیا کیونکہ اس دعا میں انہیں کے شر سے حفاظت مانگی گئی ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

۴؎ یہاں جار بمعنی حافظ،ناصر،امان دہ ہے نہ کہ بمعنی پڑوسی بلکہ پڑوسی کو بھی جار اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ امن و امان کا ذریعہ ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ"یعنی خدا  تو میرا  مددگار،حافظ،امان ہوجا،مجھے اس سے امن میں رکھ کہ کوئی موذی چیز ایذا دے۔

۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہ جار بمعنی مستجیر ہے یعنی جو تیری امان میں آجائے وہ سب پر غالب ہی رہتا ہے،دیکھو موسیٰ علیہ السلام سے، رب تعالٰی نے فرمایا:"اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیۡنَ"تم کو امن ہے یعنی جو تیری امان میں آجائے وہ سب پر غالب رہے،جسے سلطنت دنیاوی پناہ دے دے وہ غالب ہوجاتا ہے تو جسے رب پناہ دے دے اسے کون مغلوب کرسکتا ہے،رب کی حمد ثناء تمام حمدوں سے شاندار ہے کہ تمام مخلوق اس کے گن گارہی ہے۔

۶؎ چنانچہ حکم یا حکیم  ظہیر کے متعلق بخاری،ابو زرعہ،نسائی،ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ یہ متروک الحدیث ہے،ابن معین نے فرمایا کہ اس حدیث میں کچھ نہیں،ابن عدی نے فرمایا کہ اس کی اکثر حدیثیں غیر محفوظ ہیں،اس حدیث کو ابن ابی شیبہ،طبرانی اور حصن حصین نے بھی نقل فرمایا۔

الفصل الثالث 

تیسری فصل

2412 -[32]

وَعَن أَبِي مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبِرْكَتَهُ وَهُدَاهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَمِنْ شَرِّ مَا بَعْدَهُ ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو مالک سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سویرا پالے تو کہہ لے ہم نے صبح کی اور اﷲ رب العلمین کے ملک نے صبح پائی۲؎ اے اﷲ میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اس کی کشادگی اس کا نور اس کی برکت اور اس کی ہدایت مانگتاہوں ۳؎ اور جو اس دن میں ہے اس کی اور اس کے بعد کی شر سے پناہ مانگتا ہوں ۴؎ پھر جب شام پائے تو اس طرح کہہ لے ۵؎ (ابوداؤد)

۱؎ آپ کا نام کعب ابن مالک ہے،کنیت ابو مالک اشعری ہے یا اشجعی،آپ کے نام میں بہت اختلاف ہے جو ہم نے عرض کیا وہ ہی قوی ہے۔(اشعہ)

 



Total Pages: 445

Go To