$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

تیری ہوگی باقی میری لہذا احادیث میں تعارض نہیں،امام اعظم فرماتے ہیں کہ خیبر کا یہ معاملہ مساقات یا مزارعت نہ تھا بلکہ بطور جزیہ تھا اور آدھا ان کو دینا بطور عطیہ،اس کی مکمل بحث یہاں مرقات میں دیکھئے۔

2973 -[2]

وَعنهُ قَالَ: كُنَّا نخبر وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ ابْن خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَتَرَكْنَاهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ہم کھیتی باڑی کراتے تھے اوراس میں کچھ حرج نہ جانتے تھے ۱؎ حتی کہ رافع ابن خدیج نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا تب اس وجہ سے ہم نے یہ کام چھوڑ دیا ۲؎ (مسلم)

۱؎ مخابرہ کے وہی معنی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے کہ زمین ایک کی ہو محنت دوسرے کی پیداوار مشترک۔

۲؎ یہ حدیث ظاہری معنے سے امام اعظم کی دلیل ہے کہ کھیتی باڑی کسی اور سے کرانا مطلقًا ممنوع ہے۔صاحبین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص صورت مراد ہے جیساکہ ابھی عرض کیا گیا اس کی دلیل اگلی حدیث ہے بہرحال فتویٰ قول صاحبین پر ہی ہے اور آج عمل بھی اس ہی پر ہے۔(لمعات)

2974 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خديج قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبَعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ وَكَأَنَّ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ

روایت ہے حضرت حنظلہ ابن قیس سے وہ حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں مجھے میرے چچا نے خبر دی کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے ۲؎ اس کے عوض جو نالیوں پر اُگ جائے یا اس چیز پر جسے زمین والا بیان کردیتا تھا۳؎ ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمادیا ۴؎ میں نے حضرت رافع سے کہا کہ درہم و دینار کے عوض کیا ہے فرمایا اس میں حرج نہیں ۵؎ اور جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمادیا وہ تو ایسی صاف چیز ہے ۶؎ کہ اگر حلال و حرام کی سمجھ رکھے اس میں غور کرے تو اسے جائز نہ رکھے کیونکہ اس میں جوا سا ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎  حنظلہ ابن قیس زرقی انصاری ہیں،ثقہ تابعین سے ہیں،مدینہ پاک کے رہنے والے اور رافع ابن خدیج صحابی ہیں،آپ کے حالات جلد اول میں بیان ہوچکے۔

۲؎ انہم کا مرجع یا صحابہ ہیں یا ناس یا حضرت رافع ابن خدیج کے وہ تمام چچا جو زمین کے مالک تھے۔

۳؎ مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میں یستبینہ ہے بیان سےمشتق اور بعض نسخوں میں یستثنیہ ہے استثناء کا مضارع،ہمارا ترجمہ پہلی روایت پر ہے۔مطلب یہ ہے کہ زمین والا کرایہ دار کو جگہ دکھایا بتا دیتا  تھا کہ اس کی پیداوار تیری ہوگی،باقی ساری زمین کی پیداوار میری۔

۴؎ یہ حدیث پہلی حدیث کی شرح ہے کہ حضور انور نے مطلقًا زمین کرایہ پر دینے سے منع نہ فرمایا بلکہ اس نوعیت کے کرایہ سے منع فرمایا کہ زمین کا کرایہ حصہ کی پیداوار سے ادا کیا جائے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html