Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب المساقاۃ و المزارعۃ

پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  کسی سے اپنے باغ کو پانی دلوانا کچھ حصہ پیداوار کے عوض پر مساقات کہلاتا ہےاور کسی کو ٹھیکہ پر زمین دینا کہ میری زمین کاشت تم کرو پیداوار میں تمہارا اتنا حصہ مزارعت کہلاتا ہے۔مساقات باغ میں ہوتی ہے،مزارعت کھیت میں،یہ دونوں مساقات مزارعت امام اعظم کے ہاں ممنوع ہیں،صاحبین اور باقی اماموں کے ہاں درست،فتویٰ قول صاحبین پر ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں اس میں نامعلوم بلکہ معدوم چیز پر کرایہ ہے،نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مخابرہ سے منع فرمایا،شاید امام اعظم کو یہ احادیث پہنچی نہیں۔واﷲ اعلم!

2972 -[1]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا ويزرعوها وَلَهُم شطر مَا يخرج مِنْهَا

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبرکے یہود کو خیبر کے کھجور کے باغ اور وہاں کی زمین اس شرط پر دی کہ اس میں اپنے مالوں سے کام کریں  ۱؎ اور اس کے آدھے پھل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہوں ۲؎ (مسلم)اور بخاری کی روایت میں یوں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر یہود کو اس شرط پر دیا کہ کام کاج کریں اسے جوتیں بوئیں اور پیداوار کا آدھا ان کا ہوگا ۳؎

۱؎  جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر فتح فرمایا اور وہاں سے یہود کو نکالنا چاہا تو انہوں نے عاجزی سے عرض کیا کہ ہمیں یہیں رہنے دیں اور جو چاہیں شرط لگالیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم جب تک چاہیں گے تمہیں رکھیں گے اس شرط پر کہ یہاں کی تمام زمین ہماری ہوگی،باغبانی اور کاشتکاری کی محنت تم کرو گے اس کا سامان بھی تمہارا ہوگا،ہل بیل چرسہ وغیرہ جو کچھ پیداواری ہوگی وہ آدھی تمہاری آدھی ہماری۔چنانچہ زمانہ نبوی وعہد صدیقی میں ایسا ہی رہا،شروع خلافت فاروقی میں تو اس پر عمل رہا مگر بعد میں آپ نے ان یہود کو اریحہ اور شام کی طرف نکال دیا۔ خیال رہے کہ یہودی بڑے موذی و غدار تھے، مدینہ منورہ کے نکالے ہوئے بنی نضیر بھی یہیں آبسے تھے، غزوہ خندق  انہی کہ حرکتوں سے واقع ہوا  اللہ نے بچالیا ورنہ یہ تو ختم کرچکے تھے یہ تو حضور کی وسعت قلبی تھی  جو انہیں اتنی رعایتیں عطافرمائیں، آجکل کی سی  کوئی حکومت  ہوتی تو دنیا سے ایسے غداروں کا بیج مٹادیتی ۔

۲؎  اور آدھے یہود کے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر مزارعت وغیرہ میں ایک فریق کے حصے کا ہی ذکر کیا جائے دوسرے سے خاموشی رہے تب بھی جائز ہے کیونکہ دوسرے کا حصہ خود بخود معلوم ہوجاتا ہے اور یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام وہ مسلمان مراد ہیں جن کا خیبر میں حصہ تھا،ذکر صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے مگر مراد امت بھی ہے۔

۳؎ دیاسے مراد ہے قبضہ میں دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ جنگ سے قبضہ میں آیا اسی لیے وہاں کے یہود غلام نہ بنائے گئے،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو مزارعت و مساقات دونوں کو جائز کہتے ہیں،یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جن احادیث میں مخابرہ سے منع کیا گیا وہاں وہ صورت مراد ہے کہ اجرت کے لیے کسی خاص حصے کی پیداوار مقرر ہو کہ اس حصے کی پیداوار



Total Pages: 445

Go To