Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ اس سے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی بیری مراد ہے،حرم مکہ میں تو ہر خود رو درخت کا کاٹنا ممنوع ہے،مدینہ منورہ میں بیریاں کمیاب ہیں،نیز اس کا سایہ ٹھنڈا و مفید ہوتا ہے اس لیے خصوصیت سے بیری کا ذکر فرمایا۔

۲؎ یعنی یہ حدیث معنیً مختصر ہے اگرچہ الفاظ پورے ہیں گویا مجمل ہے قابل شرح ہے۔غشم ظلم کو کہتے ہیں تو ظلمًا عطف تفسیری ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنگل کی بیری رفاہ عام کی چیز ہے جس سے انسان و حیوان فائدے اٹھاتے ہیں،اسے ظلمًا کاٹ دینا سب پر ظلم ہے اس لیے وہ کاٹنے والا دوزخ کا مستحق ہے،سر سے مراد سارا جسم ہے۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ بلاضرورت مفید درخت کاٹنا ممنوع ہے اور درخت لگانا ثواب کہ جب تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے اسے ثواب پہنچتا رہے گا،یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2971 -[11]

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا.وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَافَحل النّخل. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں جب زمین میں حدیں مقررکردی جائیں تو اس میں شفعہ نہیں ۱؎ اور نہ کنوئیں میں شفعہ ہے نہ نر کھجور میں ۲؎ (مالک)

۱؎ یعنی اگر مشترک زمین کو تقسیم کر کے ہر حصہ کی حدود قائم کرلی جائیں تو شرکت کا شفعہ جاتا رہا،اب اگر ہوگا تو شفعہ جوار ہوگا،اس کی بحث پہلے ہوچکی لہذا یہ حدیث شفعہ جوار کی احادیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ اہلِ عرب مشترک باغ کے حصے فروخت کرتے تھے کبھی زمین کبھی کھجور تو فرمایا گیاکہ اگر زمین فروخت ہوئی تو شفعہ ہے لیکن اگرصرف کھجور فروخت کی تو شفعہ نہیں کہ کھجور زمین نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف عمارت فروخت کرے نہ کہ زمین تو شفعہ نہ ہوگا۔


 



Total Pages: 445

Go To