$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ شفعہ صرف غیر منقول چیزوں میں ہوگا جیسے گھر،باغ کھیت وغیرہ،منقولی چیز میں شفعہ نہیں جیسے جانور،سامان وغیرہ،ہاں حمام وغیرہ جو ناقابل تقسیم ہے اس میں ہمارے ہاں شفعہ ہے،شوافع کے ہاں نہیں۔

۲؎ یہ ناجائز بمعنی گناہ نہیں بلکہ بمعنی جاری نہ ہونا ہے یعنی اگر ایک شخص اپنا زمین کا حصہ بغیر ساجھی کو خبر کئے بیچ دے تویہ بیع لازم نہ ہوگی،ساجھی دعویٰ کرکے خود لے سکتا ہے۔

۳؎ یعنی ساجھی کو اس بیع کی جب بھی خبر لگے تو وہ دعویٰ کرکے یہ بیع اپنے حق میں کراسکتا ہے کہ وہی قیمت جو خریدار نے دی ہے خریدار کو ادا کردے اور زمین پر قبضہ کرلے۔اس سے معلوم ہوا کہ شفیع کا بیع کی خبر پاکر خاموش رہنا اس کے حق شفعہ کو باطل کردیتا ہے۔ضروری ہے کہ اطلاع پاتے ہی کہہ دے کہ میں اس زمین کا شفیع ہوں اور میں اسے خریدوں گا ذرا بھی خاموش رہا کہ حق شفعہ گیا، تفصیل کتب فقہ میں ہے۔حق شفعہ کا مقصد یہ ہے کہ اس کے پڑوس میں کوئی ایسا آدمی نہ آبسے جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو،اچھا پڑوس اﷲ کی رحمت ہے اور برا پڑوس رب کا عذاب،اہل عرب کہتے ہیں الجار قبل الدار گھر سے پہلے پڑوسی کو دیکھو۔

2963 -[3]

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنا پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے حق دار ہے ۱؎ (بخاری)

۱؎  سَقَب س اور ق کے زبر سے بمعنی قرب اور ملنا یعنی پڑوسی اپنے پڑوسی ہونے کی وجہ سے شفعہ کا حقدار ہے غیر پڑوسی کو اس کا حق نہیں پہنچتا۔حضرت عمر ابن شرید سے مروی ہے کہ اس فرمان عالی پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ سقب کیا چیز ہے؟ تو فرمایا سقبہ شفعہ جب خود حضور سقب کی تفسیر شفعہ سے فرمارہے ہیں تو اس میں کسی اور تاویل کی گنجائش نہیں رہی اس لیے تمام محدثین حتی کہ امام بخاری بھی یہ حدیث باب الشفعۃ میں لائے۔لہذا یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ پڑوسی کو حق شفعہ ملتا ہے،بعض لوگوں نے اس حدیث کے معنے یہ کیے کہ پڑوسی حسن سلوک کا مستحق ہے نہ کہ شفعہ کا وہ غلط ہیں،جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود سقب کی شرح شفعہ سے فرمائی تو اب کسی اور کی شرح کیونکر معتبر ہوسکتی ہے،ہاں اگر ایک زمین یا مکان میں کوئی شریک ہے اور دوسرا پڑوسی تو اس کا حق شفعہ شریک کو ملے گا نہ کہ پڑوسی کو یہی اس پہلی حدیث کا مطلب ہے۔(لمعات و مرقات،اشعہ وغیرہ)

2964 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَاره»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنے دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی اگر تمہاری دیوار میں تمہارا پڑوسی کیل،کھونٹی،میخ وغیرہ گاڑنا چاہے اور تمہارا اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے منع نہ کرو،امام اعظم و احمد ابن حنبل کا یہی مذہب ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،امام شافعی وغیرہم نے اسے وجوب پر محمول کیا مگر مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ یہی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام پر پیش کی تو وہ حضرات اس پر خاموش ہوگئے تو جناب ابوہریرہ درضی اللہ عنہ ناراض ہوکر بولے میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے منہ پھیر چکے ہو،میں تمہارے سینوں پر ماروں گا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ نے اس کو امروجوبی نہ سمجھا ورنہ اس پر عمل نہ چھوڑتے۔خیال رہے کہ فی زمانہ پڑوسی دوسرے کی دیوار میں کیل گاڑکر دیوار کے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html