Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الشفعۃ

شفعہ کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  شفعہ شین کے پیش سے ہے شفع سے بنا بمعنی جوڑنا ملانا اسی لیے جفت عدد کو شفع کہتے ہیں اور طاق کو وتر،رب فرماتاہے:"وَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ"سفارش کو شفاعت اور سفارشی کو شفیع کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے کو ملزم کے ساتھ ملا دیتا ہے،حق قرب کو شفعہ اس لیے کہتے ہیں کہ شفیع دوسری زمین خریدکر اپنی زمین سے ملاتا ہے دیگر اماموں کے ہاں صرف شرکت والے کو حق شفعہ پہنچتا ہے مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں پڑوسی کو بھی پہنچتا ہے جسے حق جوار کہتے ہیں،اس پر حدیث صحیحہ وارد ہیں۔ایک روایت میں اما م احمد ابن حنبل بھی امام اعظم کے ساتھ ہیں فریقین کے دلائل کتب فقہ میں دیکھئے،ہم بھی ان شاءاﷲ موقعہ پر عرض کریں گے۔(ازاشعہ)

2961 -[1]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس زمین پر شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ کی گئی ہو ۱؎ مگر جب حدیں مقرر ہوگئیں اور راستے پھیر دیئے گئے تو شفعہ نہیں ۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی جس زمین میں دو شخص شریک ہیں ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ فروخت کررہا ہے تو دوسرا شریک ہی خریدے گا،اگر یہ نہ خریدے تو دوسرا خرید سکتا ہے،اگر اس شریک کی بے خبری میں یہ زمین وغیرہ فروخت ہوگئی تو شریک مطلع ہوکر وہ بیع ختم کراسکتا ہے۔ اس حدیث کا عموم بتارہا ہے کہ زمین قابل تقسیم ہو یا نہ ہو بہرحال حق شفعہ اس میں ہوگا،امام شافعی کے ہاں ناقابل تقسیم میں شفعہ نہیں،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔

۲؎  آخری جملہ حضرت جابر کا اپنا قول ہے،حضور انور کا فرمان نہیں حضور کا فرمان عالی مالم یقسم پر ختم ہوگیا۔ (مرقات)اگر حضور انور کا فرمان عالی مانا جائے تو ان احادیث کے خلاف ہوگا جن میں پڑوسی کے حق شفعہ کا ثبوت ہے اور اگر حضور عالی کا فرمان بھی ہو تب بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ شفعہ شرکت نہ رہا کیونکہ شرکت تو ختم ہوچکی،رہا شفعہ جوار یعنی پڑوسی کی وجہ سے حق شفعہ یہ دوسری احادیث سے ثابت ہے لہذا یہ جملہ ان احادیث کے خلاف نہیں کہ اس میں مطلقًا شفعہ کی نفی نہیں شفعہ شرکت کی نفی ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ ہو۔

2962 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ: «لَا يَحِلُّ لَهُ أَن يَبِيع حَتَّى يُؤذن شَرِيكه فَإِن شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر مشترکہ زمین میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا حکم دیا گھر ہو باغ ۱؎ کہ اپنے ساجھی کو خبر دیئے بغیر اسے بیچنا جائز نہیں۲؎ پھر وہ ساجھی اگر چاہے لے لے اگر چاہے چھوڑ دے اور اگر اسے بغیر خبر دیئے بیچ دیا تو وہ ہی اس کا حق دار ہوگا۳؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To