$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ یہ عذاب تو قیامت کے دن ہوگا بعد میں دوزخ کا عذاب اس کے علاوہ ہے کیونکہ حقوق العباد میں بڑا فرق ہے کہ اور چیزیں فانی ہیں، زمین پشت ہا پشت تک باقی رہتی ہے،اس کی سزا بھی زیادہ۔لمعات میں فرمایا گیا کہ بعض غاصبین زمین کو دھنسانے کی سزا دی جائے گی اور بعض کے گلے میں طوق بناکر ڈالی جائے گی لہذا یہ حدیث طوق والی حدیث کے خلاف نہیں۔(لمعات)اور ہوسکتا ہے کہ ایک ہی غاصب کو دو وقت میں یہ دو عذاب ہوں۔

2959 -[22]

وَعَن يعلى بن مرّة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا الْمَحْشَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے حضرت یعلی ابن مرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ناحق کوئی زمین لے لے تو اسے اس کا مکلف کیا جائے گا اس کی ساری مٹی سارے محشر میں اٹھائے پھرے ۱؎(احمد)

۱؎ یہ غاصب زمین کا دوسرا عذاب ہے اور اس کے سر پر اتنے حصے کی تحت الثریٰ تک کی مٹی رکھی جائے گی اور کہا جائے گا سارے محشر میں اٹھائے پھر،آج دھوپ میں ایک ٹوکرا مٹی لے کر چلنا وبال جان ہوتا ہے تو سوچ لو کہ قیامت کی دھوپ میں اتنا بوجھ لے کر سارے محشر میں پھرنا کیسا ہوگا۔اﷲ کی پناہ!خیال رہے کہ یہ تکلیف شرعی نہ ہوگی،تکلیف شرعی کی جگہ دنیا ہے بلکہ عذابی و عقابی تکلیف ہوگی۔

2960 -[23]

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ظلمًا بالشت بھر زمین لے لے اﷲ اسے اس کا مکلف کرے گا اسے سات زمینوں کی تہ تک کھودے پھر قیامت کے دن تک اس کا طوق پہنائے گا حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۱؎(احمد)

۱؎ یہ غاصب زمین کا تیسرا عذاب ہے یا ایک ہی شخص کو یہ تینوں عذاب تین وقت میں دیئے جائیں گے یا کسی کو وہ گزشتہ عذاب اور کسی کو یہ یعنی یہ شخص خود سات تہ زمین تک بورنگ(Boring)کرے اور خود ہی اپنے گلے میں طوق بنا کر پہنے پھرے۔اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ سے مراد ہے قیامت کا آخری حصہ جس کی تفسیر حتّی یقضی الخ ہے۔خیال رہے کہ قیامت میں مؤمن کے بعض علانیہ گناہوں کی سزا علانیہ ہوگی لہذا یہ حدیث پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html