Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ یعنی مقروض زندگی میں تو خود قرض ادا کرے اور اگر بغیر ادا کیے مرجائے تو اس کے ورثاء اس کے مال سے ادا کریں،ادائے قرض میراث پر مقدم ہے اور قرض کا ذمہ دار وہ ہے کہ اگر مقروض نہ دے تو یہ دے۔خیال رہے کہ کفالہ اور حوالہ میں بڑا فرق ہے یہاں کفیل کا ذکر ہے۔

2957 -[20]

وَعَن رَافع بن عَمْرو الْغِفَارِيّ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ قَالَ: «فَلَا تَرْمِ وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِهَا» ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي «بَابِ اللّقطَة» إِن شَاءَ الله تَعَالَى

روایت ہے حضرت رافع ابن عمرو غفاری سے فرماتے ہیں میں لڑکا تھا انصار کے درخت کھجور پر پتھر ماررہا تھا ۱؎ کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر پیش کیا گیا فرمایا اے لڑکے درخت پر پتھر کیوں مارتا ہے میں نے عرض کیا کھاؤں گا۲؎ فرمایا تو پتھر نہ مار اور جو نیچے گرے ان میں سے کھالے۳؎ پھر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا فرمایا خدایا اس کا پیٹ بھردے ۴؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ہم حضرت عمرو ابن شعیب کی حدیث ان شاءاﷲ باب اللقطۃ میں بیان کریں گے۔

۱؎ یعنی پتھرکے ذریعہ کھجور کے پھل جھاڑکر کھارہا تھا کہ مجھے باغ والے نے پکڑ لیا۔

۲؎ یعنی سخت بھوکا ہوں،مجبورًا جھاڑکر کھارہا ہوں،جان بچانا مقصود ہے نہ کہ چوری کرنا یا گھر لے جانا۔

۳؎ یعنی درخت جھاڑنا ضرورت سے زائد ہے،گرے پھلوں سے بھی پیٹ بھرسکتا ہے،یہ اجازت بھی اس بنا پر دی گئی کہ میں بھوکا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے،ورنہ مالک کی اجازت کے بغیر گرے پھل بھی نہیں کھاسکتے۔فقیر نے عراق میں دیکھا کہ گرے پھل کھانے کی مالک کی طرف سے عام اجازت ہوتی ہے جیسے ہمارے ہاں کھیت کٹنے پر گری ہوئی بالیاں کھیت والے نہیں اٹھاتے ان کے سامنے ہی فقراءومساکین چن لیتے ہیں۔

۴؎ غالبًا یہ آخری جملہ کسی اور راوی کا کلام ہے ورنہ رافع ابن عمرو فرماتے ہیں کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔اس جملے سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ بھوکے تھے اور مجبوری کی حالت میں کھجوریں کھارہے تھے اگرچہ ایسی حالت میں درخت سے توڑنے کی بھی اجازت ہے مگر جب کہ نیچے گرے ہوئے پھلوں سے حاجت پوری ہوسکتی ہے تو توڑنے کی کیا ضرورت لہذا حدیث واضح ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2958 -[21]

عَن سَالم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سبع أَرضين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے باپ سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو زمین کا کچھ حصہ ناحق لے لے اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۲؎(بخاری)

۱؎ ان کے والد سیدنا عبداﷲ ابن عمر ہیں،آپ فاروق اعظم کے پوتے ہیں،تابعی ہیں فقہاء مدینہ سے ہیں،  ۱۰۶ھ؁  میں مدینہ پاک میں انتقال ہوا،آپ کی کنیت ابو عمرو قرشی ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To