Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الغصب و العاریۃ

مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ غصب کے معنی ہیں کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرلینا جیسے کوئی چیزکسی سے مانگ کر لائے پھر نہ دے یا امانت کا انکار کردیا لہذا غضب چوری ڈکیتی میں فرق ہے۔عاریت کے معنے ہیں کسی کی چیز سے اس کی اجازت پر بغیر معاوضہ نفع حاصل کرنا جیسے کسی کا برتن کچھ دن کے لیے مانگ لینا،پھر کام نکال کر واپس کردینا۔غصب حرام ہے،عاریت جائز۔عاریت عار بمعنی شرم و غیرت سے بنا،چونکہ اہل عرب اس کا م میں شرم کرتے تھے اس لیے اسے عاریت کہا گیا،ننگے کو بھی عاری اسی لیے کہتے ہیں کہ ننگا رہنے میں شرم و عار ہوتی ہے، بعض نے فرمایا عاریت تعاور سے ہے بمعنی تبادلہ کرنا،دست بدست لین و دین۔

2938 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سبع أَرضين»

روایت ہے حضرت سعد ابن زید سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۲؎(مسلم، بخاری)

۱؎ آپ عشرہ مبشرہ سے ہیں حضرت عمر فاروق کی بہن فاطمہ آپ ہی کے نکاح میں تھیں،آپ ہی کے ذریعہ حضرت عمر ایمان لائے،سواء بدر تمام غزوات میں شامل رہے،بدر کے دن آپ حضرت طلحہ کے ساتھ کفار قریش کی تلاش میں گئے تھے،حضور انور نے آپ کو حصہ غنیمت کے مال سے دیا،ستر۷۰سال سے زیادہ عمر ہوئی،    ۵۱ھ؁  میں مقام عقیق میں انتقال ہوا،آپ کی نعش مدینہ پاک لائی گئی،بقیع میں دفن ہوئے۔

۲؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین کے سات طبقے اوپر نیچے ہیں صرف سات ملک نہیں پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا،پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا لہذاجن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں،یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں،اﷲ تعالٰی اس غاصب کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی اس میں آجائے گی۔معلوم ہوا کہ زمین کا غصب دوسرے غصب سے سخت تر ہے۔

2939 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتى مشْربَته فتكسر خزانته فَينْتَقل طَعَامُهُ وَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطَعِمَاتِهِمْ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی کسی کا جانور بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے ۱؎ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ کوئی اس کے بالاخانہ پر گھس آئے پھر اس کا خزانہ توڑ کر غلہ لے جائے ۲؎ اور لوگوں کے جانوروں کے تھن ان کی غذاؤں کے خزانہ ہیں ۳؎ (مسلم)

۱؎ یعنی کسی کی بکری،گائے،بھینس،اونٹنی وغیرہ کا دودھ بغیر اس کی اجازت نہ نکالے،اہل عرب اس طرح دودھ کی چوری بھی کرتے تھے کہ کسی کا جانور پکڑا دودھ دوہ لیا یہ بھی حرام ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To