Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،ایک صاع ساڑھے چار سیر کا،حضور انور نے آپ کو وکیل قبض بنایا کہ ہماری اتنی کھجوریں یا جَو ان وکیل سے وصول کرکے ہمارے پاس لے آنا وہ حضرت خیبر میں وکیل وصولی بنا کر بھیجے گئے تھے کہ اہل خیبر سے حضور کے حصہ کی کھجوریں یہود خیبر سے وصول کرکے اپنے پاس رکھیں جب کوئی شخص مدینہ آئے گا ہم اس کے ہاتھ منگوالیں گے۔اس حدیث سے دو طرح وکالت ثابت ہوئی اور دو قسم کی ثابت ہوئی:وکالت قبض،وکالت وصولی۔

۳؎ حضور انور نے اس پہلے وکیلِ وصول کو اولا ً سمجھادیا تھاکہ آدمی تمہارے پاس جو آئے گا اس کو ہم یہ علامت سمجھا دیں گے تاکہ کوئی اور شخص ناجائز طور پر ان سے یہ مال نہ لے لے۔خیال رہے کہ یہ عمل ہم کو تعلیم کے لیے ہے ورنہ تمام صحابہ سچے،عادل،قابل اعتماد ہیں ان پر جھوٹ یا دھوکہ کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا،انہیں حضرت جابر نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تھاکہ حضور انور نے مجھ سے تین لپ بھرکر درہم دینے کا وعدہ فرمایا تھاکہ حضور کی وفات ہوگئی،جناب صدیق اکبر نے بغیر گواہ وقسم لیے وہ وعدہ پورا کیا،کیوں؟ اس لیے کہ صحابہ عادل ثقہ ہیں ان کی بات قبول ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2936 -[7]

عَن صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ: الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ والمقارضة واخلاط الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزوں میں برکت ہے ۲؎ ادھار بیچنا، قرض دینا اور گیہوں جو سے ملانا ۳؎  مگر گھر کے لیے نہ کہ تجارت کے لیے ۴؎(ابن ماجہ)

۱؎ آپ صہیب ابن سنان ہیں،کنیت ابو یحیی ،علاقہ موصل میں دجلہ و فرات کے درمیان کے رہنے والے،آپ کے علاقہ پر روم نے حملہ کرکے آپ کو غلام بنالیا اور بنی کلب قبیلہ نے آپ کو رومیوں سے خرید لیا۔بنی کلب نے عبداﷲ ابن جدعان کے ہاتھ فروخت کردیا مکہ معظمہ لاکر انہوں نے ہی آپ کو آزاد کیا،آپ اور عمار ابن یاسر ایک ہی دن ایمان لائے جب کہ حضور انور دار ارقم میں پناہ گزین تھے۔آپ نے کفار مکہ کے ہاتھوں اسلام لاکر بہت مصیبتیں اٹھائیں،آپ کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ"الخ۔نوے سال عمر ہوئی،   ۸۰ھ؁  میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بقیع میں دفن ہوئے،آپ کے فضائل بے شمار ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے۔

۲؎  برکت و کثرت میں فرق ہے ہر زیادتی کثرت ہےمگر خیر و نفع کی زیادتی برکت ہے،کثرت سے برکت اعلٰی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا"وَجَعَلَنِیۡ مُبَارَکًا"رب نے مجھے برکت والا بنایا،کثرت والا نہ کہا۔

۳؎  فقراء کو ادھار بیچ دینے میں دعائیں بھی ملتی ہیں،لوگوں کی تعریفیں بھی، رب کی رحمت بھی۔قرض دینے سے مراد ہے مضاربۃ پر مال دینا کہ مال ہمارا ہو محنت دوسرے کی،نفع میں شرکت۔گندم میں قدرے جو ملانے سے سنت بھی ادا ہوتی ہے۔خرچ میں کفایت بھی،روٹی زود ہضم بھی ہوتی ہے،قدرے ٹھنڈی بھی،گندم گرم ہے جو ٹھنڈے۔

 



Total Pages: 445

Go To