Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ یعنی اپنی برکت نکال لیتا ہوں بے برکتی داخل فرمادیتا ہوں،یہ تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جب تک تجارت میں نیک نیتی سے شرکت رہے بڑی برکت ہوتی ہےاور جہاں نیت خراب ہوتی تو برکت گئی اور دکان کا دیوالیہ ہوابارہا کا تجربہ ہے۔

۳؎ یعنی بدنیت شریکوں کے ساتھ شیطان شامل رہتا ہے کہ ان سے صدہا  گناہ کراتا ہے پھر ہر ایک شریک چوری، جھوٹ،حسد،بغض وغیرہ کرنے لگتا ہے،آخر کار بہت بدنامی اور لڑائی کے ساتھ ان کی علیحدگی ہوتی ہے،جب شیطان شریک ہوگیا تو پھر گناہوں کی کیا کمی۔

2934 -[5]

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ حضور نے فرمایا کہ جو تم سے امانتداری کرے اس کی امانت ادا کرو ۱؎ اور جو تم سے خیانت کرے اس سے تم خیانت نہ کرو ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۳؎

۱؎ یعنی جو شخص تمہیں امین جان کر اپنے مال،اسرار،عزت و آبرو وغیرہ کو تمہارے سپرد کرے تو تم امین ہی بن کر اسے دکھا دو کہ اس کے کسی معاملہ میں خیانت نہ کرو۔

۲؎ علماء فرماتے ہیں کہ حدیث فتویٰ پر شامل ہوسکتی ہے اور تقویٰ پر بھی،فتویٰ یہ ہے کہ خائن سے بقدر خیانت بدلہ لے سکتے ہیں،اگر کسی نے تمہارے سو روپے مار لیے تو جب کبھی وہ تمہارے پاس اپنی کچھ رقم امانت یا قرض دے تو اپنا حق وضع کرکے باقی مال اسے دو کہ یہ وضع خیانت نہیں بلکہ اپنا حق وصول کرنا ہے،مگر تقویٰ یہ ہے کہ ایسے شخص سے بھی بدلہ میں یہ معاملہ نہ کرے،اپنا حق علیحدہ مانگے مگر اس کا یہ حق پورا ادا کرے،یہ اعلٰی درجہ کا اخلاق ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُحضور فرماتے ہیں "واحسن اِلی من اساءَ الیك"جو تم سے برائی کرے تم اس سے بھلائی کرو۔خیال رہے کہ کافر حربی کی بھی خیانت جائز نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے موقع پر ان خون کے پیاسے دشمنوں کی امانتیں ادا کیں جنہوں نے قتل کے ارادے سے حضور کا گھر گھیر لیا تھا،حضرت علی کو حضور نے مکہ معظمہ چھوڑا اور آپ صدیق اکبر کے ساتھ روانہ ہوگئے، حضرت علی سے فرما گئے کہ ان ہی لوگوں کی میرے پاس امانتیں ہیں تم وہ ادا کرکے مدینہ آجانا۔

۳؎ یہ حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں،حاکم نے اپنی مستدرک میں،دارقطنی نے حضرت انس سے روایت کی۔

2935 -[6] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ: «إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يدك على ترقوته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر جانے کا ارادہ کیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ میں خیبر جانے کا ارادہ کررہا ہوں ۱؎ فرمایا جب تم ہمارے وکیل کے پاس جاؤ تو ان سے پندرہ وسق لے لینا ۲؎ پھر اگر تم سے کوئی نشانی مانگیں تو ان کے گلے پر ہاتھ رکھ دینا ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ صحابہ کرام جب کبھی سفر میں جاتے تو حضور انور کو مل کر،آپ سے وداع ہوکر،آپ کی دعائیں و نصیحتیں لے کر جاتے تھے ان کے لیے یہ دعائیں نصیحتیں سفر کا بہترین توشہ ہوتی تھیں۔بعض حضرات تو صراحۃً عرض کرتے تھے کہ سفر کو جارہاہوں کچھ توشہ عنایت فرمایا جائے،اس کے مطابق حضرت جابر حضور انور سے وداع ہونے حاضر ہوئے آپ اپنے کسی کام کو خیبر جا رہے تھے۔

 



Total Pages: 445

Go To