Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2932 -[3]

وَعَن عُرْوَة بن أبي الْجَعْد الْبَارِقي: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتين فَبَاعَ إِحْدَاهمَا بِدِينَار وَأَتَاهُ بِشَاة ودينار فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِهِ بِالْبَرَكَةِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابا لربح فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عروہ ابن ابی الجعد بارقی سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ایک اشرفی دی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے وہ بکری خریدیں انہوں نے حضور کے لیے دو بکریاں خرید لیں پھر ایک بکری ایک اشرفی سے بیچ دی ۲؎ اور آپ کی خدمت میں بکری اور اشرفی لائے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۳؎  پھر اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کمالیتے تھے۴؎ (بخاری)

۱؎ آپ صحابی ہیں،بارق ابن عوف ابن عدی کی اولاد سے،آپ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا حاکم مقرر کیا،آپ وہاں ہی رہے اس لیے آپ کا شمار اہلِ کوفہ سے ہوتا ہے،بعض محدثین نے فرمایا کہ آپ عروہ ابن جعد ہیں ابی جعد نہیں مگر حق یہ ہے کہ آپ عروہ ابن ابی الجعد ہیں۔

۲؎ حق یہ ہے کہ حضرت عروہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے وکیل مطلق تھے اور وکیل مطلق کو خرید و فروخت ہر چیز کا حق ہوتا ہے اس لیے آپ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک بکری فروخت بھی کردی اگر فقط خریدنے کے لیے وکیل ہوتے تو آپ کو فروخت کرنے کا حق نہ ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وکیل خرید کو سستا مال خریدنے کا حق ہے کہ اس میں مؤکل کا نفع ہی ہے۔اگر بارہ آنے سیر دودھ خریدنے کا کسی کو وکیل کیا اس نے اعلٰی درجہ کا دودھ جو بارہ آنے سیربکتا ہے دس آنے سیرخرید لیا تو یقینًا جائز ہے کہ مؤکل کا فائدہ ہی کیا ہاں وکیل بیع سستی نہیں بیچ سکتا جب کہ مؤکل نے قیمت مقررکردی ہو کہ اس میں مؤکل کا نقصان ہے۔

۳؎ گویا آپ حضرت عروہ کی اس دانائی و فراست سے بہت خوش ہوئے،تجارتی سمجھ بھی اﷲ تعالٰی کی رحمت ہے جیسے میسر ہو انہوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی اس دعا سے یہ نعمت رب کی طرف سے پائی۔

۴؎ مٹی کا لفظ یا تو بطور تمثیل فرمایا گیا مراد معمولی چیز ہے،یعنی اگر نہایت معمولی چیز کی تجارت بھی کرتے تب بھی نفع کمالیتے تھے یا مٹی ہی مراد ہے کہ مٹی کی تجارت جائز ہے۔خصوصًا مدینہ پاک کی مٹی کی تجارت تو اب بھی بڑے زور سے ہوتی ہے،وہاں کی خاک شفاء حجاج تحفہ کے طور پر لاتے ہیں کمہار جنگلی مٹی مفت اٹھالاتے ہیں اور شہر میں فروخت کرتے ہیں یہ بھی جائز ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2933 -[4]

عَن أبي هُرَيْرَة رَفَعَهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنا ثَالِث الشَّرِيكَيْنِ مَا لم يخن صَاحِبَهُ فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَزَاد رزين: «وَجَاء الشَّيْطَان»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ اسے مرفوع فرما کر فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک کہ ان میں کا ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے ۱؎ جب خیانت کرتا ہے تو ان کے درمیان سے میں نکل جاتا ہوں ۲؎(ابوداؤد) رزین نے یہ اوربڑھایا کہ شیطان آجاتا ہے ۳؎

۱؎  اﷲ تعالٰی کے تیسرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی کی رحمت و برکت ان دونوں صاحبوں کے شریک حال ہوجاتی ہے رب کو ان کا شریک قرار دینا مجازًا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تجارتی کاروبار شرکت میں کرنا اکیلے اکیلے کرنے سے بہتر ہے جماعت پر اﷲ کا ہاتھ ہوتا ہے۔علیحدگی کی صورت میں ہر ایک دوسرے کی مخالفت کرتا ہے اور شرکت میں ایک دوسرے کا تعاون کرتا ہے اور اﷲ تعالٰی بندوں کی مدد کرنے والے کی مدد کرتاہے،اس سے کاروبار کے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To