$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ اونٹ سے مراد اونٹ کا بوجھ یعنی گندم کی بوریاں ہیں یعنی بسا اوقات ایک اونٹ گندم کا بیوپار کرتے تو پورا اونٹ نفع میں بچ رہتا جیسے ایک صحابی کو حضور انور نے اشرفی دی کہ قربانی کے لیے بکری خرید لاؤ انہوں نے ایک اشرفی کی بکری خریدی اور دو اشرفیوں کے عوض فروخت کردی پھر ایک اشرفی کی دوسری بکری خریدی،پھر بکری اور ایک اشرفی لاکر حضور انور کی بارگاہ میں پیش کی۔حضور انور نے انہیں دعا دی اور اشرفی خیرات کردینے کا حکم دیا،یہ ہے پور امال نفع میں بچ رہنا۔

۶؎ عبداﷲ ابن ہشام کی والدہ کا نام زینب بنت حمید تھا،عبداﷲ گود میں تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں جب پیش ہوئے تو پیار میں حضور نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا دے دی،پھر کیا تھا وارے نیارے ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرنا دعا کرنا سنت ہے،بہار شریف میں ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت مخدوم الملک،ایک بار انہیں ان کی چھوٹی بہن نے سلام کیا تو آپ نے جواب سلام دے کر فرمایا ٹھنڈی رہو،اﷲ نے یہ دعا ایسی قبول فرمائی کہ ان کی قبر بھی ٹھنڈی کردی۔ہم نے دوپہر کے وقت ان کی قبر پر ہاتھ رکھا دھوپ قبر پر ہے،سخت دھوپ تھی تمام قبریں گرم تھیں مگر یہ قبر ٹھنڈی تھی حالانکہ چونا گچھ کی قبر تھی۔

2931 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَاننَا النخيل قَالَ: «لَا تكفوننا المؤونة وَنَشْرَكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ» . قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم فرمادیں ۱؎ فرمایا نہیں بلکہ تم ہماری طرف سے قیمت کرو اور پھلوں میں ہم تمہارے شریک ہیں ۲؎ وہ بولے ہم نے سن لیا اطاعت کریں گے ۳؎ (بخاری)

۱؎ یہ واقعہ شروع ہجرت کا ہے جب مہاجر مکہ مکرمہ وغیرہ سے مدینہ پاک آئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مہاجرین و انصار میں عقد مواخات یعنی بھائی چارہ قائم فرمایا کہ فلاں مہاجرین فلاں انصار کا بھائی اور فلاں فلاں کا،تب انصار نے عرض کیا کہ ہمارے باغ ہمارے بھائی مہاجرین میں اس طرح تقسیم فرمادیجئے کہ ہر انصار کے باغ میں اس کے مہاجر بھائی کا آدھا حصہ ہو،یہ تھی وہ بے مثال مہمان نوازی جس کی مثال آسمان نے نہ دیکھی ہوگی۔

۲؎ سبحان اﷲ! کیا پیارا فرمان ہے مقصد تو یہ تھا کہ انصار کے باغ انہیں کے رہیں کہ یہ ان کی روزی کا ذریعہ ہیں مگر ظاہر اسی طرح فرمایا کہ مہاجرین کو باغبانی آتی بھی نہیں اور ان کے پاس اتناوقت بھی نہیں کہ باغ کو پانی دینے وغیرہ کا کام کیا کریں،محنت تم کرو،پھل آدھا آدھا کردیا کرو،مقصد اور ہے اظہار کچھ اور تاکہ انصار کے مال محفوظ رہیں اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہو۔(مرقات)صاحب مشکوٰۃ کا یہ حدیث یہاں لانے سے مقصد یہ ہے کہ پھلوں میں شرکت جائز ہے کہ درخت ایک شخص کے ہوں پھل مشترکہ اس لیے یہ حدیث یہاں لائے،اس سے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔کوئی شخص کسی سے اپنے باغ کی تمام خدمات لے اس طرح کہ باغ اس کا محنت دوسرے کی پیداوار مشترکہ یہ جائز ہے کھیتی وغیرہ کا بھی یہی حال ہے کہ زمین ایک کی،محنت دوسرے کی،پیداوار مشترک یہ بھی جائز ہے۔

۳؎ انصار کی نیت یہ تھی کہ ہم نے اپنا باغ نصف مہاجر بھائی کو دے ہی دیا،اب باغ بھی مشترکہ ہے پیداوار بھی مشترکہ کام غیر مشترک کام ہم ہی کریں گے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نیت کچھ اور تھی جو ابھی عرض کی گئی۔

2932 -[3]

وَعَن عُرْوَة بن أبي الْجَعْد الْبَارِقي: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ شَاتين فَبَاعَ إِحْدَاهمَا بِدِينَار وَأَتَاهُ بِشَاة ودينار فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِهِ بِالْبَرَكَةِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابا لربح فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عروہ ابن ابی الجعد بارقی سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ایک اشرفی دی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے وہ بکری خریدیں انہوں نے حضور کے لیے دو بکریاں خرید لیں پھر ایک بکری ایک اشرفی سے بیچ دی ۲؎ اور آپ کی خدمت میں بکری اور اشرفی لائے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۳؎  پھر اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کمالیتے تھے۴؎ (بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html