Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الشرکۃ و الوکالۃ

شرکت اور وکالت کا باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  شرکت کے معنی ساجھی ہونا،وکالت کے معنی ہیں دوسرے پر اعتماد کرکے اس سے اپنا کام کرانا۔شرکت کی بہت قسمیں ہیں:شرکت منافع میں،شرکت اصل چیز میں،شرکت حقوق بدنی میں جیسے قصاص یا حد قذف میں مطالبہ کرنے والوں کی شرکت اور شرکت حق مال میں جیسے کسی کتاب کو حق شفعہ ملے،پھر شرکت عنان،شرکت معاوضہ،شرکت وجوہ، ،شرکت صنائع یہ بھی شرکت ہی کے اقسام ہیں،ان کی تفاسیرواحکام کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

2930 -[1]

عَن زهرَة بن معبد: أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأسه ودعا لَهُ بِالْبركَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت زہرہ ابن معبد سے کہ ان کو ان کے دادا عبد اﷲ ابن ہشام ۱؎  بازار لے جاتے تھے غلہ خریدتے تھے ۲؎  تو ان سے حضرت ابن عمرو اور ابن زبیر ملتے تھے تو کہتے تھے ہمیں شریک کرلو ۳؎ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا کی ہے ۴؎  تو وہ انہیں شریک کرلیتے تھے بہت دفعہ پورا اونٹ ویسے کا ویسا ہی نفع میں پالیتے تھے ۵؎  جسے وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے اور حضرت عبداﷲ ابن ہشام کو ان کی ماں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے گئی تھیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لیے دعائے برکت کی تھی ۶؎(بخاری)

۱؎ حضرت زہرہ تابعین میں سے ہیں،تمام محدثین فرماتے ہیں کہ آپ اولیاء کاملین سے تھے۔امام دارمی فرماتے ہیں کہ آپ اپنے وقت کے ابدال تھے،اپنے دادا عبداﷲ ابن ہشام سے جو صحابی ہیں اور حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص اور عبداﷲ ابن زبیر سے ملاقات رکھتے ہیں ان حضرات سے روایات لیتے ہیں۔(اشعہ)

۲؎ تاکہ انہیں خرید و فروخت آجائے۔معلوم ہوا کہ اولاد کو جیسے عبادات سکھائی جائیں ویسے ہی انہیں معاملات کی تعلیم دی جائے ،تجربہ کرایا جائے کہ معاملات بھی عبادات کی طرح ضروری ہیں ان کے احکام سخت ہیں۔

۳؎ کہ اپنے مال میں ہمارا مال ملالو،اس سے غلہ خریدو،پھر فروخت کرو۔نفع ہمارا تمہارا ہم اگرچہ تجارت جانتے ہیں مگر جو خصوصیت تم کو میسر ہے ہم کو نہیں وہ خصوصیت یہ ہے۔

۴؎ تمہیں ضرور ہر کام میں برکت و نفع ہوگا ہم بھی تمہارے ساتھ نفع میں شریک ہوجائیں گے۔موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے دعاکی تھی کہ"وَاَشْرِکْہُ فِیۡۤ اَمْرِیۡ"خدایا انہیں بھی میرا شریک کار بنادے کہ ہم دونوں نبی ہوں،دونوں دینی خدمات کریں،اجرو ثواب میں شریک رہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To