Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2923 -[25]

وَعَن عَمْرو بن عَوْف الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَأَبُو دَاوُدَ وَانْتَهَتْ رِوَايَته عِنْد قَوْله «شروطهم»

روایت ہے حضرت عمرو ابن عوف مزنی سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں میں صلح جائز ہے ۲؎  بجز اس صلح کے جو حلال کو حرام کردے یا حرام کو حلال ۳؎ اور مسلمان اپنی شرطوں پر رہیں،بجز اس شرط کے جو حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال ۴؎(ترمذی،و ابن ماجہ،ابوداؤد)اور ابوداؤد کی روایت شروطھم پر ختم ہوگئی ۵؎

۱؎ آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،آپ کے ہی متعلق یہ آیت کریمہ اتری"تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ مدینہ منورہ میں رہے،وہیں امیر معاویہ کے آخر زمانہ میں انتقال فرمایا۔

۲؎ چونکہ اکثر قرض کے موقعہ پر ہی صلح کرائی جاتی ہے کہ کچھ قرض خواہ کو دبایا جاتا ہے کچھ مقروض کو کہ قرض خواہ کچھ معاف کردے اور مقروض جلدی ادا کردے اس لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث دیوالیہ مقروض کے باب میں لائے۔

۳؎ مثلًا زوجین میں اس طرح صلح کرائی جائے کہ خاوند اس عورت کی سوکن(اپنی دوسری بیوی)کے پاس نہ جائے گا یا مسلمان مقروض اس قدر شراب و سود اپنے کافر قرض خواہ کو دے گا۔پہلی صورت میں حلال کو حرام کیا گیا، دوسری صورت میں حرام کو حلال،اس قسم کی صلحیں حرام ہیں جن کا توڑ دینا واجب ہے۔

۴؎ یعنی مسلمان نے جس سے جو شرط کی ہو اسے پورا کرے۔اس میں وعدے،کرائے،قیمتیں سب داخل ہیں۔ہاں حرام شرطوں کا توڑ دینا واجب ہے کیونکہ حق اﷲ اور حق شریعت سب پر مقدم ہے۔

۵؎ یہ حدیث احمد،ابوداؤد،حاکم نے حضرت ابوہریرہ سے پہلا جملہ نقل فرمایا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2924 -[26]

عَن سُوَيْد بن قيس قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخَرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرٍ فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ وَثمّ رجل يزن بِالْأَجْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُول الله: «زِنْ وَأَرْجِحْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت سوید ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی ۱؎ مقام ہجر سے کپڑا لائے ہم اسے مکہ معظمہ میں لائے تو ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پاپیادہ چلتے ہوئے تشریف لائے تو ہم سے پائجامہ کا بھاؤچکایا ۲؎ ہم نے وہ آپ کے ہاتھ بیچ دیا وہاں ایک شخص تھا جو مزدوری پر تول رہا تھا۳؎ اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تول دو اور نیچا تو لو۴؎ (احمد، ابوداؤد، ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہےصحیح ہے ۵؎  

۱؎ سوید ابن قیس کی کنیت ابو عمرو ہے،صحابی ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،مخرفہ بھی صحابی ہیں واؤ بمعنی مع ہے یا عاطفہ ہر دونوں صاحب شرکت میں مقام ہجر سے کپڑا تجارت کے لیے لائے تھے،ہجر کا کپڑا مشہور تھا، ہجرتین بستیوں کے نام ہیں،یمن کا ایک شہر ہے،بحرین کے ایک علاقہ کا نام بھی ہے اور مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی بھی ہے۔(اشعہ)یہاں تیسری بستی مراد ہے یہ کپڑا اسی بستی سے آیا تھا۔(مرقاۃ)

 



Total Pages: 445

Go To