Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الافلاس و الانظار

باب دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  افلاس فلس بمعنی پیسہ کا مصدر ہے ہمزہ سلب کی ہے لہذا اس کے معنے ہوئے پیسہ نہ رہنا،ہوسکتا ہے کہ ہمزہ تصییر کی ہو یعنی اس کے پاس روپیہ اشرفیوں کی بجائے پیسے بن جانا یا پیسے رہ جانا۔انظار نظرٌ سے بنا بمعنی ڈھیل یا مہلت دینا یعنی مقروض کا دیوالیہ ہو جانا اور اس کو قرض خواہوں یا حکومت کی طرف سے مہلت دینا کہ مال حاصل ہونے پر ادا کرے ابھی اس پر تقاضا نہ ہو،یہ حکم قرآن کریم سے حاصل ہوا فرماتاہے:"وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ"۔اس مہلت دینے کا بڑا اجروثواب ہے۔

2899 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَارَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَق بِهِ من غَيره»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو دیوالیہ ہوجائے ۱؎ پھر کوئی شخص اپنا مال بعینہ اسی طرح پالے ۲؎  تو دوسروں سے زیادہ حق دار اس کا یہ ہی ہوگا ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ امام شافعی علیہ الرحمۃ کے ہاں من عام ہے جس میں ساری قسم کے دیوالیہ داخل ہیں مگر احناف کے ہاں من سے مردار وہ خریدار ہے جو تاجر سے ادھار خرید کر لایا،پھر دیوالیہ ہوگیا،اس فرق مطلب کی وجہ سے ان دونوں اماموں میں بڑا اختلاف ہے جیساکہ آئندہ ذکر ہوگا۔

۲؎ بعینہ پانے سے مراد یہ ہے کہ نہ تو ذاتًا وہ مال فنا ہوا ہو نہ صفاتًا کہ نہ تو وہ چیز دیوالیہ نے خرچ کرکے فنا کردی ہو نہ اسے وقف یا ہبہ یا بیع کردیا ہو،اگر ایسا کرچکا ہے تو اس کا یہ حکم نہیں۔

۳؎ امام شافعی کے ہاں اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اگر دیوالیہ کے پاس کسی کو اپنا مال مل جائے تو وہ اپنا مال لے لے،دوسرے قرض خواہ اس میں شریک نہ ہوں گے یہ مال کسی قسم کا بھی ہو،ہمارے احناف کے ہاں اس سے صرف یہ صورت مراد ہے کہ کسی شخص نے کسی سے کوئی چیز بشرط خیار خریدی کہ خیار بائع کو تھا اچانک خریدار دیوالیہ ہوگیا تو اب بائع اپنا خیار استعمال کرکے چیز واپس لے سکتا ہے اور اگر اس مال کی کچھ قیمت بھی لے چکا ہے تو بقدر قیمت وضع کرکے باقی چیز واپس لے سکتا ہے اس کے علاوہ اور کسی صورت میں یہ مال نہیں لے سکتا،حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ہی فیصلہ فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی  یہ ہی منقول ہے۔ (مرقات)یہ اختلاف خیال میں رہے۔

2900 -[2]

وَعَن أبي سعيد قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِك وَفَاء دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو ۳؎ تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۴؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To