Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2894 -[3]

وَعَن أنس قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أحد مِنْكُم يطلبنني بمظلة بِدَمٍ وَلَا مَالٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھاؤ چڑھتے گئے تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بھاؤ مقرر فرمادیجئے ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بھاؤ مقرر فرمانے والا اﷲ ہے وہ ہی تنگی و فراخی فرمانے والا روزی رساں ہے ۲؎ میری آرزو ہے کہ اپنے رب سے اس طرح ملو۳؎ کہ تم میں سے کوئی مجھ سے خونی یا مالی ظلم کا مطالبہ نہ کرسکے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی دن بدن گرانی بڑھتی جارہی ہے،آپ ہر چیز پر کنٹرول(Control)فرماتے ہوئے بھاؤ مقرر فرمادیں کہ کوئی شخص اس سے زیادہ بھاؤ پر فروخت نہ کرسکے تاکہ خریداروں کو آسانی ہوجیساکہ آج کل حکومتیں کرتی رہتی ہیں۔

۲؎ یعنی بھاؤ کا اتار چڑھاؤ گرانی و ارزانی رب کی طرف سے ہے یہ قدرتی چیز ہے جو انسان کی تدبیر سے دفع نہیں ہوسکتی،اس کے لیے رب سے دعائیں مانگو کہ وہ رحم کرے ارزانی بھیجے۔سبحان اﷲ! کیا پیارا فرمان ہے تجربہ شاہد ہے کہ کنٹرول(Control)سے ارزانی نہیں ہوتی گرانی بڑھ جاتی ہے کہ پھر تاجر بلیک(Black)دوگنی تگنی قیمت پر فروخت کرتے ہیں بلکہ کبھی چیز ناپید ہوجاتی ہے بھلا جس چیز کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے رد فرمادیا ہو وہ مفید کب ہوسکتی ہے۔

۳؎ یعنی میری وفات اس حال میں ہو یا قیامت میں اس طرح اٹھوں کہ کسی بندہ کا مجھ پر کوئی حق نہ ہو،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو رب سے اتنے قریب ہیں اور رب سے ایسے ملے ہوئے ہیں کہ جو ان سے مل جائے وہ رب سے مل جاتا ہے،رب فرماتا ہے کہ اگر مجرم آپ کے دروازہ پر آکر استغفار کریں تو رب کو پالیں گے،حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں۔شعر

ضم الالہ اسم النبی باسمہ                                                                      اذ قال فی الخمس المؤذن اشھد

یعنی رب نے توان کے نام کو اپنے نام کے ساتھ اذان و کلمہ وغیرہ میں ملالیا،ہم نے عرض کیا ہے۔شعر

وہ رب کے ہیں رب ان کا ہے جو ان کا ہے وہ رب کا ہے

بے ان کے جو رب سے ملا چاہے دیوانہ ہے سودائی ہے

بہرحال رب سے ملنے سے مراد وفات یا قیامت میں اٹھنا ہے۔

۴؎ معلوم ہوا کہ چیزوں پر کنٹرول کرنا،ان کے بھاؤ مقرر کردینا تاجروں پر بھی ظلم ہے خریداروں پر بھی،تاجروں پر اس لیے کہ جب انہیں وہ چیز اس بھاؤ پڑتی نہیں تو وہ بیچیں گے کیوں کر اگر حکومت جبرًا سستی بکوا دے تو یہ دوسرے کے مال میں ناحق تصرف ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تاجر بیوپار چھوڑ دیں گے اورلوگ بھوکے مریں گے جیسا کہ اب بھی مشاہدہ ہورہا ہے،ہاں اگر حکومت خود تجارت کرے یا تاجروں کو مناسب بھاؤ پر مہیا کرکے دے،پھر فروخت کا بھاؤ مقررکردے جس سے تاجروں کو نقصان نہ ہو اور چیز ناپید نہ ہو تو جائز ہوسکتا ہے۔اس کی تفصیل اسی جگہ لمعات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ فرمایئے،کچھ مرقات نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے،خریداروں پر اس لیے کہ جب تاجر کنٹرول کی وجہ سے مال باہر سے لانا چھوڑ دیں گے تو خریدار مال کہاں سے حاصل کریں گے،شہر میں قحط پڑ جائے گا یا پھر بلیک (Black)ہوکر مال بہت ہی گراں ملے گا جیساکہ آج دیکھا جارہا ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2895 -[4]

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهِ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مسلمانوں پر ان کی روزی(غلہ)روکے  ۱؎ اﷲ اسے کوڑھ اور مفلسی میں مارے ۲؎ (ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان اور رزین نے اپنی کتاب میں)

 



Total Pages: 445

Go To