Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

ان کا یہ قول ضعیف بھی ہے اور جمہور علماء و احادیث ربوٰ کے مخالف بھی کیونکہ ان کے ہاں بھی اگر مرہون غلام قرض خواہ کے قبضہ میں فوت ہوجائے تو اس کا کفن دفن مالک پر ہے نہ کہ قرض خواہ پر۔

۲؎ اگر مقروض اس گروی کا دودھ وغیرہ استعمال کرے تو خرچہ اس کے ذمہ اور اگر قرض خواہ اس کی یہ چیزیں نہ دے تو رہن کی آمدنی سے اس کے یہ خرچ پورے کیے جائیں۔اگر آمدنی بچ رہے تو وہ قرض خواہ کے پاس امانت ہے جو اداء قرض کے وقت دی جائے اور اگر خرچ بڑھ جائے تو قرض میں شمار ہوگا،جب مقروض قرض اور یہ خرچ ادا کرے گا تب اپنی چیز واپس لے گا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2887 -[5]

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ الرَّهْنَ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهُ لَهُ غنمه وَعَلِيهِ غرمه» . رَوَاهُ الشَّافِعِي مُرْسلا

2888 -[6]

وَرُوِيَ مثله أَو مثل مَعْنَاهُ لَا يُخَالف عَنهُ عَن أبي هُرَيْرَة مُتَّصِلا

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا گروی رکھنا مرہون چیز کو اس کے گروی رکھنے والے مالک سے نہیں روکتا ۱؎  اس کے لیے اس مرہون کا نفع ہے اور اس ہی پر مرہون کا تاوان ۲؎ (شافعی مرسلًا)اور اس کی یا اس کے معنی کی مثل جو مذکورہ حدیث کے خلاف نہیں،سعید ابن مسیب سے متصلًا مروی ہے وہ ابوہریرہ سے۳؎

۱؎  لایغلق باب افعال کا مضارع معروف ہے،پہلا رہن مصدر ہے دوسرا بمعنی مرہون یعنی کسی چیز کا گروی رکھ دینا مرہون چیز کو مالک مقروض سے روکتا نہیں بلکہ اس راہن کو اس مرہون کے استعمال کا حق ہے۔

۲؎ یعنی گروی چیز کے منافعے مالک کے ہوں گے اور اس کے تمام مصارف مالک ہی پر ہوں گے وہ رہن قرض خواہ کے پاس بطور امانت مقبوض رہے گا،یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے کہ مالک راہن مرہون کے نفعے حاصل کرے گا اور اس پر ہی اس کے خرچے ہوں گے۔مرتہن یعنی قرض خواہ کو نفع لینے کا حق ہے نہ اس پر خرچ،یہ ہی جمہور علماء اسلام کا مذہب ہے اور یہ حدیث ان کی مؤید ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رہن پر قرض خواہ کا قبضہ تو ضروری ہے مگر قبضہ کا دوام ضروری نہیں،مالک کچھ دیر کے لیے قرض خواہ سے مرہون لے سکتا ہے کہ بغیر ملے اس سے نفع کیسے اٹھائے گا۔

۳؎ راوی معروف ہے اور اس کے فاعل امام شافعی ہیں،ہوسکتا ہے کہ مجہول ہو اور مثلہ نائب فاعل۔مطلب یہ ہے کہ مصابیح میں تو مرسل مروی ہے اور امام شافعی نے متصل اسناد سے بھی روایت فرمائی عن سعید ابن مسیب عن ابی ھریرۃ۔

2889 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْمِيزَانُ مِيزَانُ أَهْلِ مَكَّةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پیمانے تو مدینہ والوں کے ہیں اور ترازو مکہ والوں کے ۱؎ (ابوداؤد،نسائی)

۱؎ یعنی شرعی احکام میں جہاں وزن ضروری ہے تو مکہ والوں کا وزن معتبر کہ وہ لوگ عمومًا تاجر ہیں،انہیں دن رات وزن سے کام رہتا ہے اور جہاں ناپ ضروری ہے تو مدینہ والوں کے ناپ کا اعتبار ہے کہ یہ لوگ عمومًا کاشتکار ہیں انہیں ناپنے کا کام رہتا ہے،دیکھو زکوۃ چاندی سونے کے وزن پر ہے اور وزن سے ہے تو اس میں مکہ والوں کا وزن لو اور فطرہ میں ناپ کا اعتبار ہے تو مدینہ والوں کا ناپ ملحوظ۔

 



Total Pages: 445

Go To