Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  اس یہودی کا نام ابو شحم تھا،قبیلہ بنی ظفر سے تھا یا تو  اس وقت صرف اسی کے پاس فالتو جَو تھے،کسی صحابی کے پاس ضرورت سے زائد نہ تھے یا حضرات صحابہ حضور انور سے گروی لینے پر ہرگز تیار نہ تھے اور گروی رکھنا ضروری تھا تاکہ آیندہ اس گروی کے مسائل لوگوں کو معلوم ہوسکیں اسی لیے یہودی سے قرض لیا اور اسے گروی دیا،حضور انور نے ابو شحم سے کچھ ادھار لیے تھے جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔

۲؎ اس واقعہ سے بہت سے احکام شرعیہ معلوم ہوئے:کفار سے خریدوفروخت اور قرض کا لین دین جائز ہے اگرچہ ان کی آمدنی خالص حلال نہیں،وہ شراب وسور کی بھی تجارت کرتے ہیں،سود  کا  کاروبار بھی کرتے ہیں،ہر مخلوط آمدنی والے کا یہ ہی حکم ہے،حضور انور نے دنیا میں زہد وقناعت اختیار کی،جنگی سامان کفار کے ہاں گروی رکھنا درست ہے اگرچہ بحالت جنگ ان کے ہاتھ ہتھیار  فروخت کرنا ممنوع ہے،ذمی کفار اپنے مال واسباب کے شرعی مالک ہیں۔رہن گھر میں بھی درست ہے،قرآن کریم میں رہن رکھنے کے لئے جو سفر کی قید ہے کہ "وَ اِنۡ کُنۡتُمْ عَلٰی سَفَرٍ"الخ یہ قید اتفاقی ہے احترازی نہیں۔خیال رہے کہ کفار کے ہاتھ قرآن شریف یا مسلمان غلام فروخت کرنا ممنوع ہے،دین میں میعاد  ادا  مقرر ہونی چاہیے تاکہ جھگڑا نہ پڑے۔(مرقات)

2885 -[3]

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعا من شعير. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی تھی ۱؎ (بخاری)

۱؎ یا تو یہ وہ ہی واقعہ ہے جو ابھی مذکورہوا یا یہ دوسرا واقعہ ہے،یہ زرہ حضرت ابوبکر صدیق نے چھوڑائی اور حضرت علی کو مرحمت فرما دی۔(مرقات)اور حضور انور کے تمام وعدے وقرض حضرت صدیق اکبر نے ادا کیے۔وہ جو روایت میں آتا ہے کہ مقروض میت کی روح ادائے قرض سے پہلے پھنسی رہتی ہے۔یہ اس صورت میں ہے کہ میت نے بلاضرورت قرض لیا ہو یا ناجائز کام کے لیے یا اس کی نیت ادا کی نہ ہو لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ایک صاع ساڑھے چار سیر کا ہوتا ہے تو کل ۱۳۵ سیرجو ہوئے یعنی تین من پندرہ سیر۔

2886 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يركب وَيشْرب النَّفَقَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب سواری گروی ہو تو اس کے خرچ کے عوض اس پر سوار ہوا جاسکتا ہے اور جب جانور گروی ہو تو اس کا دودھ خرچ کے عوض پیا جاسکتا ہے ۱؎  اور سوار ہونے والے اور دودھ پینے والے کے ذمہ خرچ ہے ۲؎(بخاری)

۱؎ جمہور علماء کے نزدیک اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ مالک یعنی مقروض اپنی گروی چیز کا خرچہ برداشت کرے اور اس سے نفع حاصل کرسکتا ہے لہذا گروی بھینس یا گھوڑے کا خرچ مالک یعنی مقروض دے گا اور دودھ یا سواری کاحق بھی مقروض ہی کو ہوگا،اس صورت میں حدیث ظاہر ہے۔اگر یہ مطلب ہو کہ قرض خواہ گروی پر خرچ کرے اور اس کے دودھ سواری سے فائدہ اٹھائے تو احادیث ربوٰ سے یہ حدیث منسوخ ہے کہ جو قرض نفع کا ذریعہ ہو وہ حرام ہے،امام احمد و اسحاق اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ قرض خواہ رہن سے نفع بھی اٹھائے اس پر خرچ بھی کرے وہ بھی صرف سواری دودھ کی اجازت دیتے ہیں،باقی منافع حاصل کرنا ان کے ہاں بھی حرام ہے مگر



Total Pages: 445

Go To