Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب السلم و الرھن

سلم اور گروی کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  سلم کے لغوی معنے ہیں تسلیم یعنی سپردکرنا،سونپنا۔شریعت میں سلم یہ ہے کہ قیمت فی الحال دی جائے،چیز ادھار ہو،یہ تجارت سات آٹھ شرطوں سے جائز ہے،چونکہ اس بیع میں قیمت فورًا سپرد کی جاتی ہے اس لیے سلم کہلاتی ہے،اسے بیع سلف یعنی ادھار کی بیع بھی کہتے ہیں کہ مال مبیع اس میں ادھار ہوتا ہے۔بیع سلم کا ثبوت قرآن شریف سے بھی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوۡہُ"۔یہاں بیع سلم مراد ہے۔رہن کے معنی ہیں حبس یعنی قید کرنا،روکنا،شریعت میں گروی کو رہن کہتے ہیں۔جس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کے حق کی وجہ سے اپنی کوئی چیز حقدار کے پاس رکھ دی جائے کہ جب یہ شخص حق دار کا حق ادا کر دے،اپنی چیز لے لے،رہن کا ثبوت قرآن شریف سے بھی ہے حدیث شریف سے بھی۔چنانچہ رب تعالٰی فرماتاہے:"فَرِہٰنٌ مَّقْبُوۡضَۃٌ"اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک یہودی سے کچھ قرض لیا اوراپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت وہ زرہ گروی ہی تھی جو جناب صدیق اکبر نے چھوڑائی۔(اشعہ و لمعات)

2883 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَقَالَ: «مَنْ سلف فِي شَيْءٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُوم إِلَى أجل مَعْلُوم»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ایک سال دو سا ل تین سال تک بیع سلم کرتے تھے ۱؎  تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی چیز میں بیع سلم کرے وہ مقرر پیمانے اور وزن مقرر میں معین مدت تک سلم کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس طرح کہ  دانے پھل سال دو سال کے ادھا ر پر خریدتے تھے کہ قیمت آج دے دی  اور دانے یا پھل سال دو سال کے بعد لیں گے۔ظاہر یہ ہے کہ دانے اور پھل ایسے ہوتے تھے جو سال بھر تک بازار میں ملتے رہیں کیونکہ بیع سلم میں یہ شرط ہے کہ وہ چیز عقد کے وقت سے ادا کے وقت تک بازار میں ملتی رہے ۔

۲؎  اس حدیث سے بیع سلم کی تین شرطیں معلوم ہوئیں:خریدی چیز کا وزن معلوم ہونا، پیمانہ معلوم ہونا ، وقت ادا مقرر ہونا۔ احناف کے ہاں تقرر مدت بیع سلم کی شرط ہے،امام شافعی کے ہا ں نہیں لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے، باقی شرائط چیز کی ذات و وصف کامعلوم ہونا،ادا کی جگہ مقرر ہونا، وقت ادا تک چیز کا بازار میں ملنا   دوسری احادیث و دلائل سے معلوم ہوگا۔

2884 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اشْتَرَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا من يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک یہودی سے ۱؎ غلہ ادھار میعاد معین تک کے لیے خریدا  اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی  ۲؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To