Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثالث

تیسری فصل

2882 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: " اشْترى رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَقَارًا مِنْ رَجُلٍ فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ الْعَقَارَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ. فَقَالَ بَائِعُ الْأَرْضِ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لي غُلَام وَقَالَ الآخر: لي جَارِيَة. فَقَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَيْهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقُوا "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص نے دوسرے سے زمین خریدی تو زمین کے خریدار نے اپنی اس زمین میں ایک مٹکی پائی جس میں سونا بھرا تھا ۱؎ تو خریدار نے بائع سے کہا اپنا سونا مجھ سے لے لو میں نے تم سے زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا بیچنے والا بولا میں نے تو تیرے ہاتھ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب بیچ دیا۲؎  چنانچہ یہ دونوں ایک شخص کے پاس مقدمہ لے گئے تو جسے انہوں نے پنچ بنایا تھا وہ بولا ۳؎  کیا تم دونوں کے اولاد ہے تو ان میں سے ایک بولا کہ میرے لڑکا ہے تو دوسرا بولا میری لڑکی ہے پنچ نے کہا لڑکے کا لڑکی سے نکاح کردو اور ان پر خرچ کرو اور بچا ہوا خیرات کردو ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی جب خریدار نے اس زمین میں کنواں یا بنیاد کھودی تو اس میں دفینہ پایا۔کان و دفینہ مل جانے کے احکام کتب فقہ میں دیکھئے۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیسے ایماندار لوگ تھے،خریدار کہہ رہا ہے کہ میں نے صرف زمین خریدی ہے اور یہ سونا زمین میں نہیں یہ تیرا ہے، بائع کہتا ہے کہ زمین کی فروخت میں اس کے اندر کی تمام چیزیں بک جاتی ہیں جیسے اس کے اندر کا پانی اور کان وغیرہ لہذا یہ سونا بھی بک گیا اور زمین کی طرح اس کا بھی تو ہی مالک ہوگیا۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص حکومت کا مقرر کردہ حاکم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا مقررکردہ پنچ تھا اور ہوسکتا ہے کہ حاکم ہی ہو۔ مرقات نے فرمایا کہ بعض محدثین کے خیال میں یہ حاکم داؤد علیہ السلام تھے۔واﷲ اعلم!

۴؎  وَصَدِّقُوْا یا اَنْفِقُوْا کا بیان ہے یا علیحدہ حکم یعنی ان بچوں پر سارا خرچ کرو جس میں صدقہ کا ثواب ملے گا یا کچھ ان پر خرچ کرو کچھ فقراء پر۔(حاشیہ مشکوۃ)خیال رہے کہ دفینہ کے یہ احکام ہمارے دین میں نہیں،ہمارے ہاں دفینہ اگر کفار کا ہے تو اس کا اور حکم ہے اور اگر مسلمانوں کا ہے تو اور حکم،رہا یہ فیصلہ کہ کس کا دفینہ ہے علامت سے کیا جائے گا،تفصیل کتب فقہ میں دیکھئے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قاضی و حاکم حتی الامکان فریقین میں صلح کی کوشش کرے اور ان کو اچھی بات کا حکم کرے۔


 



Total Pages: 445

Go To