Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثانی

دوسری فصل

2879 -[5]

عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا: أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيِّ لَهُ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

روایت ہے حضرت مخلد ابن خفاف سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے ایک غلام خریدا میں نے اس کی آمدنی وصول کرلی پھر میں اس کے ایک عیب پر مطلع ہوا ۲؎  تو میں نے اس کا مقدمہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے مجھے اس کے واپس کردینے کا فیصلہ اور اس کی آمدنی لوٹا دینے کا حکم دیا ۳؎ پھر میں حضرت عروہ کے پاس گیا اور انہیں خبر دی وہ بولے شام کو میں ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ حضرت عائشہ نے مجھے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس جیسے مقدمہ میں فیصلہ یہ فرمایا کہ آمدنی خرچ کے عوض ہے ۴؎ چنانچہ عمر کے پاس عروہ گئے تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ آمدنی اس شخص سے واپس لے لو جسے دے دینے کا حکم مجھے دیا تھا ۵؎(شرح سنہ)

۱؎ صحیح یہ ہے کہ مخلد تو تابعی ہیں جن سے صرف یہی ایک روایت مروی ہے لیکن ان کے والد خفاف اور دادا ایما دونوں صحابی ہیں،قبیلہ بنی غفار سے ہیں۔مخلد میم کے زبر اور خ کے سکون سے ہے،خفاف خ کے پیش اور ف کے زبر سے ہے۔(اشعہ)

۲؎ آمدنی سے مراد غلام کی کمائی ہے اور عیب سے مراد وہ پرانا عیب ہے جو بائع کے ہاں سے آیا۔لغت میں غلہ اس آمدنی کو کہاجاتا ہے جو کھیت باغ جانور سے حاصل ہو،دانے پھل،دودھ بچے،کرایہ وغیرہ یہاں کی کمائی مراد ہے یعنی مجھے غلام کے عیب کا پتہ اس وقت چلا جب میں اس کی کچھ کمائی حاصل کرچکا۔

۳؎ یعنی پہلے تو میں نے فروشندہ سے کہا کہ غلام واپس لے لے مگر جب وہ راضی نہ ہوا تو خلیفۃ المسلمین حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی بارگاہ میں مقدمہ دائر کردیا کہ یہ غلام واپس کرایا جائے تب آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ غلام واپس دو،اس کی آمدنی بائع کے حوالہ کرو اور اپنی قیمت اس سے وصول کرو۔

۴؎ آپ حضرت عروہ ابن زبیر ہیں،مشہور تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات قاریوں سے ہیں،قرشی ہیں،اسدی ہیں،   ۲۳ھ؁ میں پیدا ہوئے، بڑے فقیہ تھے،آپ نے فرمایا کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے فیصلہ غلط کیا کہ غلام کی اتنے دن کی آمدنی تمہیں واپس کرنا نہ ہوگی میں انہیں عرض کردوں گا کہ چونکہ اس زمانہ میں خریدار غلام پر کھانا پینا وغیرہ خرچ بھی کرچکا ہے اس لیے آمدنی اس کے خرچ و ضمان کے عوض ہے۔

۵؎ یعنی میں بائع کو غلام اور اس کی آمدنی دے چکا تھا،پھر مجھے آمدنی واپس دلوائی گئی۔معلوم ہوا کہ حاکم کے فیصلہ کی اپیل کرنا جائز ہے خواہ اس کے پاس کرے یا اس سے بڑے حاکم کے پاس۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں خریدے ہوئے جانور کے بچے، اون ، دودھ ، درخت کے پھل  وغیرہ خریدار کے ہوں گے اور اصل شے واپس ہوگی ، امام مالک کے ہاں جانور کے بچے ماں کے ساتھ واپس ہوں اون،دودھ واپس نہ ہوگا،ہمارے ہاں خریدار کے پاس بچے یا پھل کی پیدائش سے جانور یا درخت واپس نہ ہوسکے گا بلکہ خریدار نقصان عیب لے گا،ان



Total Pages: 445

Go To