$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2877 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عُدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِيهَا وَأَعْتِقِيهَا» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا أبعد فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ آئیں بولیں کہ میں نو اوقیہ پر مکاتبہ ہوگئی ہوں ہر سال میں ایک اوقیہ ۱؎  آپ میری امداد فرمائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا اگر تمہارے مولٰی یہ پسند کریں کہ میں انہیں سارا روپیہ ایک دم گن دوں اور تمہیں آزادکروں اور تمہاری ولا میرے لیے رہے ۲؎  وہ اپنے مولاؤں کے پاس گئیں انہوں نے اس کا انکار کیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۳؎  اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں لے لو اور آزاد کردو۴؎  پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں قیام فرمایا اﷲ کی حمدوثناء کی ۵؎ پھر فرمایا بعد حمد وثناء کے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ کی کتاب میں نہیں ہیں ۶؎ جو شرط بھی ایسی ہو جو اﷲ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے،اگرچہ سو شرطیں ہوں ۷؎ لہذا اﷲ کا فیصلہ لائق عمل ہے اور اﷲ کی شرط بہت مضبوط ہے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے ۸؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حضرت بریرہ بروزن کریمہ مشہور صحابیہ ہیں،پہلے ایک یہودی کی لونڈی تھیں،پھر حضرت عائشہ صدیقہ کی لونڈی بنیں،آپ کی ملک پر آزاد ہوئیں کہ یہودی نے آپ کو مکاتبہ کیا تھا،پھر حضرت عائشہ صدیقہ نے خرید لیا۔(اشعہ)اوقیہ کی تحقیق  پہلے ہو چکی ہے۔مکاتب وہ غلام ہے جسے مولٰی کہہ دے کہ اتنی رقم مجھے دے تو آزاد ہے۔

۲؎ اس طرح کہ تو اپنے کو اداء بدل کتابۃ سے معذور کردے جس سے کتابۃ ختم ہوجائے پھر میں تجھے نو اوقیہ کے عوض خرید کر آزاد کردوں تو تم میری آزاد کردہ لونڈی ہو اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو،ورنہ مکاتب کی بیع درست نہیں اور جو مکاتب کی امداد کرے کہ اس کا بدل کتابۃ ادا کر دے وہ اس کا مالک نہیں ہوجاتا نہ ولاء اسے ملتی ہے۔

۳؎ یعنی بریرہ کے مولٰی اس فسخ کتابۃ پر تو راضی ہوگئے فروخت کردینے پر بھی راضی ہو گئے مگر فروخت میں شرط  یہ لگاتے تھے کہ ولاء یعنی حق میراث انہیں ملے یہ شرط بھی فاسد تھی اس سے بیع بھی فاسد ہوتی۔

۴؎ اس حدیث کی بنا پر امام مالک اور احمد ابن حنبل مکاتب کی بیع جائز مانتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور انور نے بریرہ مکاتبہ کی بیع درست رکھی مگر ہمارے امام اعظم و شافعی فرماتے ہیں کہ مکاتب کی رضا سے اس کی فروخت کتابۃ کا فسخ ہے،گویا مکاتب اپنی کتابۃ ختم کررہا ہے اور اپنے کو فروخت کرارہا ہے یہاں یہ ہی ہوا،بعض آئمہ نے اس حدیث کی وجہ سے بشرط عتق بیع کو جائز رکھا کہ یہاں حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنھا نے آزادی کی شرط پر خریدا،ہمارے ہاں ایسی بیع فاسد ہے کہ یہ بیع بالشرط ہے،یہاں بائع یا حضرت بریرہ نے یہ شرط نہ لگائی تھی بلکہ خود ام المؤمنین نے آزادی کی پیشکش کی تھی،شرط اور پیش کش میں بڑا فرق ہے۔

۵؎ وعظ سے پہلے حمد الٰہی سنت رسول اﷲ ہے صلی اللہ علیہ و سلم اور حمد و صلوۃ دونوں پڑھنا سنت صحابہ ہے،دونوں ہی پڑھنا چاہئیں۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html