$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2874 -[41]

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من بَاعَ عَيْبا لَمْ يُنَبِّهْ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللَّهِ أَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو عیب دار چیز فروخت کردے جس پر خبردار نہ کرے تو وہ اﷲ تعالٰی کی ناراضی میں رہے گا یا فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۲؎(ابن ماجہ)

۱؎ آپ کے اسلام کے وقت میں اختلاف ہے،بعض فرماتے ہیں کہ تیاری غزوہ تبوک کے وقت ایمان لائے،بعض فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے لاچکے تھے بلکہ اصحاب صفہ سے تھے،تین سال حضور انور کی خدمت میں رہے،۹۸ یا ۱۰۰ سال کی عمر میں دمشق میں وفات پائی،آپ دمشق کے آخری صحابی ہیں۔(اشعہ)

۲؎ عَیِّبُ یا تو ی کے شد اور کسرہ سے ہے صفت مشبہ یا ی کے سکون سے مصدر،اگر مصدر ہے تو مبالغہ کے لیے ارشاد ہوا یعنی جو عیب دار چیز کو فروخت کرے وہ گویا سراپا عیب فروخت کررہا ہے،عیب کا تاجر ہے،اس جرم پر اتنی سخت سزا اس لیے ہے کہ دھوکا دینا مؤمن کی شان کے خلاف ہے،نہ مؤمن کو دھوکا دے نہ کافر کو،یہ شرعی قومی ملکی جرم ہے۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html