Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

ہوا کہ قانونًا بیع نامہ تاجر کی طرف سے ہونا چاہیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلْیُمْلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الْحَقُّ"لیکن خریدار کی طرف سے بھی خریدنامہ ہوسکتا ہے کہ اس میں بھی احتیاط ہے۔

۳؎ یعنی یہ ایسی خرید و فروخت ہے جیسی مسلمان کی مسلمان سے ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی مسلمان کا خیر خواہ ہوتا ہے،اسے دھوکا نہیں دیتا ورنہ یہ بیع مسلمان کی نبی سے تھی نہ کہ عام مسلمان سے۔خیال رہے کہ نبی لغوی مؤمن و مسلم ہوتے ہیں نہ کہ اصطلاحی، اصطلاح میں تو وہ عین ایمان ہیں کہ ان کو ماننے سے انسان مؤمن بنتا ہے اسی لیے بیع منصوب ہے کہ کاف تشبیہ پوشیدہ ہے۔

۴؎ کیونکہ اس کی اسناد میں عباد ہیں جو ضعیف ہیں،ان کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں لَیْسَ بِشَیْئٍ۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت سے قبل خرید و فروخت دونوں کی ہیں مگر ہجرت کے بعد فروخت بہت کم کی ہے۔(اشعہ و لمعات)

2873 -[40]

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الحلس والقدح؟» فَقَالَ رجل: آخذهما بِدِرْهَمٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟» فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ فَبَاعَهُمَا مِنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک کمبل وپیالہ نیلام کیا ۱؎  تو فرمایا اس کمبل و پیالے کو کون خریدتا ہے تو ایک صاحب بولے میں انہیں ایک درہم میں لیتا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کون ایک درہم پر بڑھاتا ہے دوسرے صاحب نے دو درہم حاضر کیے تو ان ہی کے ہاتھ فروخت کر دیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ حلس وہ بڑا کمبل ہے جو اونٹ پر ڈالا جائے یا فرش پر بچھایا جائے،چھوٹا کمبل جو ایک آدمی ہی اوڑھ سکے کساء کہلاتا ہے،یہ دونوں چیزیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی نہ تھیں بلکہ ایک فقیر و مسکین کی تھیں جو حضور انور سے کچھ مانگنے آیا تھا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بھیک سے بچالیا اس کی دو چیزیں نیلام کرکے اسے کام پر لگادیا۔

۲؎  اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نیلام جائز ہے جسے عربی میں بیع من یزید کہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ایک کے بھاؤ پر دوسرا آدمی بھاؤ لگا سکتا ہے جب کہ پہلا بھاؤ طے نہ ہوا ہو،جن احادیث میں بھاؤ پر بھاؤ لگانے سے منع کیا گیا ہے وہاں بھاؤ طے ہوچکنے کے بعد مراد ہے۔تیسرے یہ کہ کسی کی چیز دوسرا آدمی وکیل بن کر فروخت کرسکتا ہے۔چوتھے یہ کہ بیع تعاطی یعنی فقط لین دین سے جائز ہے اگرچہ منہ سے ایجاب و قبول نہ ہو۔پانچویں یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہماری جان و مال کے مالک ہیں کہ ہماری چیز بغیر ہماری رضا مندی فروخت کرسکتے ہیں کیونکہ وہ صحابی حضور سے مانگنے آئے تھے نہ کہ چیز بکوانے مگر حضور نے ان سے بغیر پوچھے ان کی چیزیں نیلام کر دیں،قرآن شریف فرمارہا ہے کہ مسلمان کو حضور کے مقابلہ میں اپنی جان و مال کا کوئی اختیار نہیں جس کا جس سے چاہیں نکاح کر دیں فرماتا ہے:"وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ"الخ۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2874 -[41]

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من بَاعَ عَيْبا لَمْ يُنَبِّهْ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللَّهِ أَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو عیب دار چیز فروخت کردے جس پر خبردار نہ کرے تو وہ اﷲ تعالٰی کی ناراضی میں رہے گا یا فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۲؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To