Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم غلہ کے بازار میں تشریف لے گئے تو کسی دکان پر گندم یا جو یا کسی اور غلہ کا ڈھیر تھا،حضور انور نے اس ڈھیر میں اپنا ہاتھ شریف داخل کیا تو پتہ لگا کہ ڈھیر کے اوپر تو غلہ سوکھا ہوا ہے مگر اندر سے گیلا ہے یعنی تاجر نے لوگوں کو دھوکا دے رکھا ہے غالبًا دکاندار کو یہ خبر نہ تھی کہ یہ بھی جرم ہے،وہ سمجھے تھے کہ خود گیلا کرنا گناہ ہے جو باہر سے قدرتی طور پر گیلا ہوجائے اس میں ہمارا کیا گناہ،لہذا اس سے ان صحابی کا فسق ثابت نہیں ہوتا،نیز گناہ کرلینا اور چیز ہے فسق کچھ اور یہ گناہ تھا جس سے توبہ ہوگئی اگر اس گناہ پر جم جاتے توبہ نہ کرتے تو فسق ہوتا،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا

۲؎ یعنی گندم بارش سے بھیگ گیا تھا میں نے اسے بھیگے ڈھیر پر سوکھا گندم ڈال دیا۔خلاصہ یہ ہے کہ خود دھوپ سے اوپر کا حصہ نہ سوکھ گیا تھا ورنہ ان پر عتاب نہ ہوتا،بلکہ سوکھا گندم ڈالا گیا تھا۔

۳؎ یعنی سوکھا گندم اوپر نہ ڈالنا چاہیے تھا تاکہ خریدار دھوکا نہ کھاتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تجارتی چیز کا عیب چھپانا گناہ ہے بلکہ خریدار کو عیب پر مطلع کردے کہ وہ چاہے تو عیب دار سمجھ کر خریدے چاہے نہ خریدے۔دوسرے یہ کہ حاکم یا بادشاہ کا بازار میں گشت کرنا،دکانداروں کی ان کی چیزوں کی،باٹ ترازو کی تحقیقات کرنا،قصور ثابت ہونے پر انہیں سزا دینا سنت ہے،آج جو یہ تحقیقات حکام کرتے ہیں اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ تجارتی چیز میں عیب پیدا کرنا بھی جرم ہے اور قدرتی پیدا شدہ عیب کو چھپانا بھی جرم۔دیکھو بارش سے بھیگے غلہ کو چھپانا ملاوٹ ہی میں داخل فرمایا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2861 -[28]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أنْ يُعلمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فروخت میں استثناء کرلینے سے منع فرمایا مگر جب کہ وہ شے معلوم ہوا ۱؎ (ترمذی)

۱؎ استثناء وہ ممنوع ہے جس سے بیع محض مجہول و نامعلوم رہ جائے جیسے کوئی شخص باغ کے پھل فروخت کرے اور کہے کہ ان میں سے دس من تو میرے ہوں گے باقی تیرے ہاتھ فروخت یا اس ڈھیر کا چار من گندم میرا باقی تیرے ہاتھ فروخت کرتا ہوں کہ اب یہ خبر نہ رہی کہ باقی ہے کتنا لیکن اگر یوں کہے کہ آدھے یا تہائی یا چوتھائی میرے باقی تیرے تو جائز ہے کہ یہ استثناء معلوم ہے۔

2862 -[29]

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ هَكَذَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي المصابيح وَهُوَ قولُه: نهى عَن بيْعِ التَمْرِ حَتَّى تزهوَ إِنَّما ثبتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انگور فروخت کرنے سے منع فرمایا حتی کہ سیاہ پڑ جائیں اور دانوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سخت پڑ جائیں ۱؎(ترمذی)ابوداؤد نے یوں ہی روایت کی ان دونوں کے ہاں حضرت انس کی روایت سے یہ نہیں ہے کہ چھوہاروں کی فروخت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑ جائیں مگر حضرت عمر کی روایت سے فرماتے ہیں کہ حضور نے چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہوجائیں ۲؎  اور ترمذی و ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی اور وہ زیادتی مصابیح میں ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہو جائے یہ ان دونوں کی روایت میں حضرت ابن عمر سے ہے فرماتے ہیں کھجور کی تجارت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑجائیں۳؎  ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To