Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب المنھی عنھا من البیوع

باب جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ ممنوع تجارتیں چند قسم کی ہیں:بیع فاسد،بیع باطل،بیع مکروہ۔بیع فاسد کرنا منع ہے مگر بعد قبضہ مفید ملک ہے اور بیع باطل بالکل ملک کا فائدہ نہیں دیتی،نہ قبضہ سے پہلے نہ بعد میں،بیع مکروہ مطلقًا مفید ملک ہے اگرچہ ایسا کرنا اچھا نہیں جیسے اذان جمعہ ہوچکنے کے بعد نماز جمعہ سے پہلے تجارت کہ اس کا کرنا برا لیکن بیع درست ہوگی۔

2834 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيع تمر حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلَا وَإِنْ كَانَ كرْماً أنْ يَبيعَه زبيبِ كَيْلَا أَوْ كَانَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذلكَ كُله. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ: " والمُزابنَة: أنْ يُباعَ مَا فِي رُؤوسِ النَّخلِ بتمْرٍ بكيلٍ مُسمَّىً إِنْ زادَ فعلي وَإِن نقص فعلي)

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎  وہ یہ ہے کہ اگر کھجور ہو تو اپنے باغ کے پھل خشک کھجور کے عوض ناپ سے فروخت کرے اور اگر انگور کا کھیت ہو تو انگور کشمش کے عوض ناپ سے فروخت کرے ۲؎  اور مسلم کے نزدیک یہ ہے ۳؎ کہ اگر کھیت ہو تو تر دانہ خشک دانوں کے عوض ناپ سے بیچے ان سب سے منع فرمایا ۴؎ (مسلم،بخاری)ان ہی دونوں میں ایک روایت یوں ہے کہ مزابنہ سے منع فرمایا اور فرمایا کہ مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگی کھجوریں معین پیمانے چھوہاروں کے عوض بیچے کہ اگر زیادہ ہوں تو میری اور اگر کم ہو تو مجھ پہ ۵؎

۱؎  مزابنہ زبن سے بنا بمعنی دفع کرنا،ختم کرنا،چونکہ اس بیع کو بعد میں ایک شخص جاری رکھنا چاہتا ہے دوسرا جسے نقصان نظر آئے فسخ کرنا چاہتا ہے اس لیے اسے مزابنہ کہتے ہیں،یعنی دفع کی جانے والی بیع۔

۲؎  خلاصہ یہ ہے کہ خشک پھل ہم جنس تر پھلوں کے عوض جو درخت پر لگے ہیں فروخت کرنا کہ خشک پھل کا وزن تو معلوم ہوا مگر درخت پر لگے ہوئے تر پھلوں کا وزن معلوم نہ ہو صرف اندازہ ہو یہ حرام ہے کہ اس میں سود کا احتمال قوی ہے،ہاں اگر جانبین کے پھل مختلف الجنس ہوں تو مضائقہ نہیں۔

۳؎ یعنی بخاری و مسلم کی روایتوں میں اَوْ اور اِنْ کا فرق ہے کہ بخاری میں اَو کان اور مسلم میں اِن کان۔

۴؎ طعام سے مراد گندم ہے یا تمام دانے یعنی کھیت میں درختوں میں لگے ہوئے گندم کے خوشے،دوسری خشک گندم کی عوض فروخت کرنا منع ہے کہ خشک گندم کا وزن تو معلوم ہے مگر خوشے کی گندم کا وزن معلوم نہیں اور مال ربوی ہے جس میں زیادتی کمی سود ہے لہذا اس بیع سے بچے۔

۵؎ یعنی خریدار کہے کہ تیرے باغ میں لگی ہوئی کھجوریں جتنی بھی ہوں میری ہیں،کم ہوں تو مجھے نقصان ہے زیادہ ہوں مجھے نفع،یہ حرام ہے کہ اس میں سود ہے۔

2835 -[2]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطةً والمزابنةُ: أنْ يبيعَ التمْرَ فِي رؤوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع مخابرہ،محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ۱؎ محاقلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا کھیت سو فرق گندم کے عوض بیچے ۲؎ اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں لگے چھوہارے سو فرق کے عوض بیچے اور مخابرہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے تہائی یا چوتھائی پر ۳؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To