Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

صاحب فرماتے ہیں کہ اولًا تو یہ حدیث ہی ضعیف ہے،اس ضعیف حدیث سے استدلال درست نہیں اور اگرصحیح بھی ہو تو منسوخ ہے،یہ حکم اس وقت تھا جب کہ اسلام میں سود حرام نہ ہوا تھا،ہماری دلیل حضرت سمرہ کی حدیث ہے جو ابھی گزرگئی کہ وہ حدیث صحیح بھی ہے اور غیر منسوخ بھی۔اس حدیث میں ایک اشکال یہ بھی ہے کہ ادھار کی بیع میں وقت ادا مقرر ہونا چاہیے اور زکوۃ کے اونٹوں کی وصولی کا وقت مقرر نہیں،ہر شخص اپنا سال گزرنے پر زکوۃ دیتا ہے زکوۃ کے لیے کوئی مہینہ یا تاریخ مقرر نہیں ہوسکتی،غرضکہ یہ حدیث کسی طرح قابل عمل نہیں ضعیف ہے منسوخ ہے یا مجمل یا مشکل ہے،حدیث سمرہ اس پر ترجیح رکھتی ہے۔(لمعات)

الفصل الثالث

تیسری فصل

2824 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يدا بيد»

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سود ادھار میں ہے ایک روایت میں یوں ہے جو ہاتھ بہ ہاتھ نقد ہو اس میں سود نہیں  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی جیسے رب کا فرمان"اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ"میں کہ قرآن کریم نے جو صرف چھ جانوروں کی حرمت بیان کی حصر کے طریقہ پر یہ مشرکین کے بحیرہ سائبہ وغیرہ کے مقابلہ میں ہے ورنہ کتا گدھا وغیرہ بھی حلال نہیں ہے۔کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ہم کو برابر برابر فروخت کرنے کے متعلق دریافت کیا ہوگا،یا مختلف الجنس کو زیادتی کمی سے بچنے کے بارے میں پوچھا ہوگا تو فرمایا ان صورتوں میں سود صرف ادھار میں ہوگا نقد میں نہیں،ایک سیر گندم دوسیر جو کے عوض یا ایک سیر گندم ایک سیر گندم کے عوض نقد بیچ سکتے ہیں ادھار نہیں لہذا الربو میں الف لام عہدی ہے یعنی ان کا ربوٰ صرف ادھار میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ الف لام استغراقی ہو یعنی ادھار میں مطلقًا زیادہ حرام ہے خواہ دونوں کے عوض و قدر میں یکساں ہوں یا صرف جنس میں یا صرف قدر میں یکساں ہوں،نقد کی تجارت میں ربوٰ جب حرام ہوگا جب کہ دونوں عوض جنس میں بھی ایک ہوں وزن میں بھی لہذا یہ حدیث گزشتہ مثلًا بمثلٍ کے خلاف نہیں۔(لمعات،اشعہ،مرقات)

2825 -[19]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدراقطني

وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: «مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحت فَالنَّار أولى بِهِ»

روایت ہے حضرت عبد اﷲ ابن حنظلہ سے جنہیں فرشتوں نے غسل دیا ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کا ایک درہم جو جانتے ہو انسان کھائے ۲؎ وہ چھتیس بار زنا سے سخت تر ہے۳؎ (احمد،دارقطنی)بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس سے روایت کی وہاں یہ زیادتی ہے کہ فرمایا جس کا گوشت حرام سے اُگا ہوگا تو آگ اس سے بہت قریب ہوگی ۴؎

۱؎ غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ کی صفت ہے نہ کہ عبداﷲ کی،حضرت حنظلہ غزوہ احد کے دن نو عروس تھے،ابھی جنابت سے غسل نہ کیا تھا کہ اعلان جہاد ہوگیا،بغیر غسل کیے چلے گئے اور شہید ہوگئے،انہیں حضرت جبریل و میکائیل نے غسل دیا،ان کی نعش شریف سے پانی ٹپک رہا تھا اسی لیے ان کا لقب غسیل الملائکہ ہوا،ان کے بیٹے حضرت عبداﷲ بھی صحابی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے



Total Pages: 445

Go To