$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2821 -[15]

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے(ارسالًا) ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور کے عوض گوشت بیچنے سے منع فرمایا ۲؎ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے جوئے سے تھا ۳؎(شرح سنہ)

۱؎ حضرت سعید ابن مسیب افضل تابعین سے ہیں،انہوں نے بغیر ذکر صحابہ حدیث کو حضور سے روایت فرمادیا،اسی کا نام ارسال ہے، حدیث مرسل امام شافعی کا ہاں معتبر نہیں،ہمارے ہاں معتبر ہیں۔

۲؎ اس حدیث کے ظاہری معنی پر حضرت امام شافعی کا عمل ہے،ان کے ہاں گوشت جانور کے عوض فروخت کرنا مطلقًا ممنوع ہے،خواہ گوشت اور جانور ایک ہی جنس کے ہوں یا مختلف جنس کے اور خواہ جانور حلال ہو یا حرام۔چنانچہ ان کے ہاں گائے کے گوشت کے عوض گدھا خریدنا بھی حرام ہے اور بکری کا گوشت خریدنا بھی حرام،امام محمد کے ہاں اگر جانور حلال ہو اور گوشت و جانور ہم جنس ہوں تو گوشت جانور کے گوشت سے زیادہ ہونا ضروری ہے،اگر بکری میں دس سیر گوشت ہے تو دوسرا گوشت بارہ تیرہ سیر چاہیے اوراگر جانور و گوشت زیادہ چاہیے تاکہ زیادتی کھال وغیرہ کے عوض ہوجائے اور اگر جانور و گوشت مختلف الجنس ہوں تو مطلقًا بیع درست ہے،امام اعظم کے ہاں یہ کوئی قید نہیں ان کے ہاں جانور کی بیع گوشت کے عوض ہر طرح جائز ہے اور اس حدیث میں ادھار بیع مراد ہے یعنی جانور کو گوشت کے عوض نقد بیچنا تو حلال ہے ادھار بیچنا حرام کہ جانور موٹا پتلا ہوتا رہتا ہے اور گوشت کا ادھار میں تعین مشکل ہوتاہے۔(لمعات و مرقات)

۳؎ یعنی کفار عرب کھیل کا بھی جوا کرتے تھے اور عقد کا بھی،یہ جانور و گوشت کی بیع کو عقد کا جُوا قرار دیتے تھے کہ اگر جانور میں گوشت سے زیادہ نکل آیا تو گوشت والا جیت گیا اور اگر کم نکلا تو جانور والا جیت گیا گوشت والا ہار گیا۔

2822 -[16]

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور کی جانور کے عوض ادھار تجارت سے منع فرمایا ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ اس مسئلہ کی تحقیق اور اس میں صحابہ و تابعین اور آئمہ دین کا اختلاف پہلے بیان ہوچکا کہ بعض کے ہاں اگر دو طرفہ جانور ادھار ہوں تو بیع ناجائز ہے،اگر ایک طرفہ ادھار ہو ایک طرف نقد تو درست ہے۔ہمارے ہاں جانور کی جانور سے ادھار بیع مطلقًا منع ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے کہ اس میں کوئی تفصیل نہیں۔

2823 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فنفدتِ الإِبلُ فأمرَهُ أَن يَأْخُذَ عَلَى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ایک لشکر کے سامان تیار کرنے کا حکم دیا ۱؎ تو اونٹ ختم ہوگئے ۲؎ تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض لے لیں تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوض لیتے تھے ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی حکم دیا کہ لشکر کو سواریوں ہتھیاروں اور دیگر سامان سے لیس کردیں۔

۲؎ یعنی بعض سپاہیوں کو اونٹ نہ ملے اونٹ ختم ہوگئے اور سپاہی بچ رہے کہ اونٹ کم تھے اور سپاہی زیادہ تھے۔

۳؎ اس کی صورت یہ ہے کہ آج لوگوں سے اونٹ خرید لو اور ان تاجروں سے وعدہ کرلو کہ جب زکوۃ کے اونٹ آئیں تو تم کو ایک کے عوض دو اور دو کے عوض چار دیئے جائیں گے۔ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے کہ جو جانور کے ادھار کی بیع جائز کہتے ہیں،ہمارے امام



Total Pages: 445

Go To
$footer_html