Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2819 -[13]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی کے عوض چاندی،گیہوں کے عوض گیہوں،جو کے عوض جو،چھوہارے چھوہارے کے عوض اور نمک نمک کے عوض نہ بیچو مگر برابر برابر ۱؎ نقد نقد سے ہاتھ بہ ہاتھ ۲؎ لیکن سونے کو چاندی کے عوض اور چاندی کو سونے کے عوض اور گیہوں کو جو کے عوض اور جو کو گیہوں کے عوض،چھوہارے نمک کے عوض ہاتھ بہ ہاتھ جیسے چاہو بیچو ۳؎ (شافعی)

۱؎  خیال رہے کہ وزنی چیزوں کی برابری وزن سے ہوگی اور کیل یعنی ماپ والی چیزوں کی برابر ماپ سے،شریعت میں سونا چاندی وزنی ہیں اور گندم جو کیل،تو سونے چاندی دھاتوں کو وزن میں برابر کرکے خرید و فروخت کرو اور گندم جو کو ٹوپہ پیمانہ سے برابر کرکے فروخت کرو لہذا ایک سیر بھاری گندم کی بیع ایک سیر ہلکی گندم سے ناجائز ہے کہ یہ وزن میں تو برابر ہوئے مگر پیمانہ میں برابر نہیں لیکن گندم پیمانہ میں کم آئے گی وزن میں زیادہ ایسے ہی ایک سیر گندم کی بیع ایک سیر گندم کے آٹے سے ناجائز ہے کہ ایک سیر آٹا زیادہ گندم کا ہوتا ہے۔(ازمرقات)

۲؎ یعنی ہم جنس و ہم وزن چیزوں کی بیع میں زیادتی کمی بھی حرام ہے اور ادھار بھی حرام،برابر دو اور دو طرفہ نقد دو اور ہم وزن تو ہوں مگر ہم جنس نہ ہوں جیسے گندم وجو یا ہم جنس تو ہوں ہم وزن نہ ہوں جیسے اخروٹ یا انڈے کہ گن کر فروخت کیے جاتے ہیں تو ان میں زیادتی کمی جائز مگر ادھار حرام اور جنس و وزن دونوں میں مختلف ہوں تو کمی بیشی بھی حلال اور ادھار بھی درست جیسے روپیہ پیسہ سے مذکورہ چیزوں کی خرید و فروخت،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔

۳؎ یعنی چونکہ ان کی جنسیں مختلف ہیں لہذا ان میں زیادتی کمی حلال ہے لیکن ہم وزن میں ادھار حرام ہوگا جیسا کہ پہلے حدیث میں اور ابھی شرح میں گزر چکا۔(مرقات و لمعات)

2820 -[14]

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ سے کھجور چھوہاروں کے عوض خریدنے کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ تو فرمایا کیا کھجور خشک ہو کر کم ہوجاتی ہے ۲؎ عرض کیا ہاں تب آپ نے اس سے منع فرمادیا۳؎ (مالک،ترمذی، ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ اگر تر کھجور خشک چھوہاروں کے عوض برابر برابر فروخت کی جائے تو درست ہے یا نہیں کہ اس وقت تو برابر ہی ہیں،سوال نہایت اعلٰی ہے۔

۲؎ یہ سوال ناواقفی کی بنا پر نہیں کہ تر کھجور کا خشک ہو کر کم ہوجانا بالکل ظاہر ہے،خصوصًا اہل عرب پر خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر بلکہ آئندہ جواب کی تمہید کے لیے ہے جیسا کہ روش کلام سے ظاہر ہے۔(مرقات)

۳؎ امام شافعی و صاحبین کے ہاں تر کھجور و خرما کی بیع برابر برابر بھی ناجائز ہے اس حدیث کی بنا پر مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں برابر برابر کی بیع درست ہے۔اولًا تو یہ حدیث ضعیف ہے اس سے حرمت جیسا مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ (اشعہ)اگر حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے ادھار کی بیع مراد ہوگی کہ ایک جنس میں ادھار کی بیع حرام ہے دوسری روایات میں لفظ نسیئۃ آیا بھی ہے،انگور کی بیع کشمش یا منقے سے،تازہ گوشت کی بیع خشک گوشت سے اسی اختلاف پر ہے کہ امام اعظم کے ہاں برابر برابر کی درست دیگر آئمہ کے ہاں ممنوع۔ (مرقات)

2821 -[15]

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے(ارسالًا) ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور کے عوض گوشت بیچنے سے منع فرمایا ۲؎ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے جوئے سے تھا ۳؎(شرح سنہ)

 



Total Pages: 445

Go To