Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثانی

دوسری فصل

2818 -[12]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ» . وَيُرْوَى مِنْ «غُبَارِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب کہ سود کھائے بغیر کوئی نہ رہے گا ۱؎ اگر سود نہ بھی کھائے گا تو اسے سود کا اثر ضرور پہنچے گا یہ بھی روایت ہے کہ اس کا غبار پہنچے گا ۲؎(احمد،ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ اس طرح کہ سود کا رواج عام ہوجائے گا اور ہر شخص بلاواسطہ یا بالواسطہ کبھی نہ کبھی سود کھا ضرور لے گا جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کوئی کاروبار بغیر بینک کے نہیں چلتا اور کوئی بینک بغیر سود کے لین دین نہیں کرتا،اب اس سودی روپیہ سے جو کاروبار ہوگا اس میں سود ضرور شامل ہوگا۔

۲؎ یعنی اس زمانہ میں بعض لوگ سود لیں گے،بعض دیں گے،بعض سود کی گواہی تحریر وغیرہ کریں گے،بعض لوگ ان سودی کاروبار والوں کے گھر دعوت کھائیں گے،بعض لوگ ان سے دینی کاموں میں چندہ لیں گے،بہرحال یہ سودی پیسہ کسی نہ کسی ذریعہ ہر جگہ ضرور پہنچے گا۔

مسئلہ: جس کی آمدنی مخلوط ہو کہ حلال بھی ہو حرام بھی اس کے ہاں ملازمت کر کے تنخواہ لینا،اس سے چندہ لینا،اس کے ہاں دعوت کھانا وغیرہ سب کچھ جائز ہے،ہاں خالص حرام کمائی والے کے ہاں نہ ملازمت جائز نہ ان سے یہ معاملات درست۔(کتب فقہ)اسی لیے یہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سود عام ہوجانے کی خبر دی مگر ان سب لوگوں کو فاسق یا گنہگار نہ فرمایا سود خوار فاسق ہے مگر جسے سود کا غبار یا بخار پہنچے اسے فاسق نہیں کہہ سکتے،دیکھو رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ہاں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ابو طالب کے ہاں پرورش کے لیے رکھا،ان کی کمائیاں یقینًا مخلوط تھیں،خالص حلال نہ تھیں،اگر مخلوط مال کی دعوت یا چندہ حرام ہوتے تو رب تعالٰی اپنے کلیم و حبیب صلوۃ اﷲ علیہما وسلامہ کی پرورش ان کے ہاں نہ کراتا،نیز اگر مخلوط مال سے یہ سارے معاملہ بند کردیئے جائیں تو آج کوئی دینی ادارہ مدرسے،مسجدیں،خانقاہیں آباد نہیں رہ سکتے کہ ان میں ہرشخص سے چندہ لیا جاتا ہے خالص حلال کی تحقیق نہ کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں،یہ مسئلہ ضرور خیال میں رکھاجائے۔اس قاعدے سے آج کل کے بینک وغیرہ محکموں کی نوکریوں کا حال بھی معلوم ہوگیا۔یہ ضرور ہے کہ اس وقت خالص حلال روزی ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

2819 -[13]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی کے عوض چاندی،گیہوں کے عوض گیہوں،جو کے عوض جو،چھوہارے چھوہارے کے عوض اور نمک نمک کے عوض نہ بیچو مگر برابر برابر ۱؎ نقد نقد سے ہاتھ بہ ہاتھ ۲؎ لیکن سونے کو چاندی کے عوض اور چاندی کو سونے کے عوض اور گیہوں کو جو کے عوض اور جو کو گیہوں کے عوض،چھوہارے نمک کے عوض ہاتھ بہ ہاتھ جیسے چاہو بیچو ۳؎ (شافعی)

 



Total Pages: 445

Go To