$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2809 -[3]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَ  الْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض،گیہوں گیہوں کے عوض،جو جو کے عوض اور چھوہارے چھوہاروں کے عوض،نمک نمک کے عوض برابر برابر ہاتھ بہ ہاتھ بیچو ۱؎  جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود کا کاروبار کیا، لینے والا دینے والا اس میں برابر ہے۲؎(مسلم)

۱؎ خیال رہے کہ سود کی حرمت صرف ان چھ چیزوں سے خاص نہیں ان چھ چیزوں کا ذکر اس لیے ہے کہ دوسری چیزوں کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکے،علت قیاس میں فقہاء کا اختلاف ہے،ہمارے ہاں جنس و وزن یا کیل میں اتحاد علت قیاسی ہیں۔

۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ سود دو شخصوں سے قائم ہے دینے والے اور لینے والے سے لہذا سود کے دونوں مجرم ہوں گے کہ ان دونوں نے حرام کاروبار کیا اگرچہ لینے والا بڑا گنہگار ہوگا جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا۔(مرقات)خیال رہے کہ نام و کام میں یکساں ہونا ہم وزنیت،لہذا گائے اور بکری کے گوشت ہم جنس نہیں کہ نام اگرچہ دونوں کا گوشت ہی ہے مگر کام میں قاعدوں میں فرق ہے اور سونا و لوہا ہم وزن نہیں کہ سونے کے باٹ رتی،ماشہ،تولہ اور لوہے کے باٹ سیرو من ہیں لہذا بکری و گائے کے گوشت میں زیادتی جائز،ایسے ہی سونے و لوہے میں زیادتی حلال ہے کہ بکری کا گوشت ایک سیردےکر گائے کا گوشت دو سیرلے لیا جائے یا دو تولہ سونا دےکر دو من لوہا لے لیا جائے یا ایک انڈا دو انڈوں کے عوض،ایک گز لٹھا کپڑا دو گز لٹھے کپڑے کے عوض لے لیا جائے کہ انڈے اور کپڑے وزن یا کیلی چیز نہیں بلکہ انڈا عددی ہے اور کپڑا ذرعی یعنی انڈے گن کر اور کپڑا گزوں سے ناپ کر فروخت ہوتے ہیں ان میں زیادتی سود نہیں۔

2810 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تبِيعُوا مِنْهَا غَائِبا بناجز»وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرق بالورق إِلَّا وزنا بِوَزْن»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے سے برابر کے بغیر نہ بیچو اور بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۱؎  اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۲؎ اور ادھار نقد کے عوض نہ بیچو۳؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو۴؎   

۱؎ یعنی سونا خواہ مضروب یعنی سرکاری سکہ ہو یا پترا،نیز نقشیں زیور ہو یا سادہ دو طرفہ وزن میں برابر ہونا ضروری ہے،اگر ایک تولہ سونا کی اشرفی دو تولے سونے کے پترے کے عوض فروخت کی یا دو تولہ کے جڑاؤ نقش و نگار والا زیور چار تولے سونے کے عوض بیچا تو حرام ہےنقش یا سکہ کا اعتبار نہیں وزن کا اعتبار ہے،یہ مسئلہ بہت خیال میں رکھنا چاہیے۔

۲؎ یعنی چاندی کی تجارت کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ برابر کے عوض فروخت کرو لہذا اگر چاندی کے ایک روپیہ کے عوض دو تولہ چاندی لی تو حرام ہوا،آج کل روپیہ لوہے کا ہے اور نوٹ کاغذ کا اس لیے یہ بیع جائز ہے کہ ایک روپیہ کی دو تولہ چاندی لیں یا دو روپیہ کی چاندی ایک تولہ خریدیں کیونکہ لوہا یا کاغذ چاندی کی ہم جنس نہیں،بعض حجاج انگریزی دو روپیہ کی عوض سعودی ایک ریال لیتے تھے یہ حرام تھا کہ ادھر دو تولہ چاندی جاتی تھی اور ادھر ایک تولہ چاندی ملتی تھی اب نوٹ میں یہ قباحت نہیں۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html