Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الربوا

سود کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ربو ربوٌ سے بنا بمعنی زیادتی و بڑھ جانا اسی لیے زمین کو جہاں پیداوار زیادہ ہوتی ہو ربوہ کہتے ہیں،شریعت میں ربوا اس زیادتی کو کہتے جو عوض سے خالی ہو اور نفس عقد میں مشروط ہو،جانبین میں ہم جنس وہم وزن مال ہوں جیسے ایک سیرگندم دے کر سواسیر لے لینا،اگر جنس یا وزن میں فرق ہوگیا تو سود نہ ہوا۔ربو واؤ سے بھی لکھ سکتے ہیں الف سے بھی ی سے بھی مگر قرآن شریف میں صرف واؤ سے لکھا جائے گاکیونکہ قرآن شریف کی تلاوت و کتابت سب کچھ منقول ہے،سیدنا عبداﷲ ابن سلام فرماتے ہیں کہ سود ستر گناہ ہیں چھوٹا گناہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زنا کرنا،ایک درہم سود کا ۳۶ زنا سے بدتر ہے،قرآن شریف میں سود خوار کو اﷲ رسول سے جنگ کرنے کا اعلان دیا گیا۔

2807 -[1]

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے ۱؎ کھلانے والے لکھنے والے اور اس کے گواہ ہوں پر لعنت کی اور فرمایا یہ سب برابر ہیں ۲؎(مسلم)

۱؎ سود کھانے والے کا ذکر پہلے فرمایا کہ یہی بڑا گنہگار ہے کہ سود لیتا بھی ہے اور کھاتا بھی ہے،دوسرے پر یعنی مقروض اور اس کی اولاد پر ظلم بھی کرتا ہے،اﷲ کا بھی حق مارتا ہے اور بندوں کا بھی۔

۲؎ یعنی اصل گناہ میں سب برابر ہیں کہ سود خوار کے ممدومعاون ہیں،گناہ پر مددکرنا بھی گنا ہے رب تعالٰی نے صرف سود خوار کو اعلان جنگ دیا،معلوم ہوا کہ بڑا مجرم یہ ہی ہے۔

2808 -[2]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْملح بالملح مثلا بِمثل سَوَاء بسَواءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض،گیہوں گیہوں کے عوض اور جَو جَو کے عوض چھو ہارے چھوہاروں کے عوض،نمک نمک کے عوض برابر برابر ۱؎ ہاتھ بہ ہاتھ بیچو،جب یہ قسمیں بدل جائیں تو جیسے چاہو بیچو جب کہ ہاتھ بہ ہاتھ ہو ۲؎(مسلم)

۱؎  الذھب اور اس کے معطوف اسماءمرفوع ہیں مبتداء ہونے کی وجہ سے اور بالذھب وغیرہ خبر ہوسکتا ہے کہ منصوب ہوں۔فعل پوشیدہ بیعوا کا مفعول یعنی ان چیزوں کو جب ان کی ہم جنس کے عوض فروخت کرو تو دو طرفہ برابر دو مطلقًا زیادتی و کمی نہ ہو،ان چھ چیزوں کی زیادتی میں تو اتفاق ہے کہ حرام ہے ان کے ماسواء میں آئمہ کا اختلاف ہے ہمارے ہاں ہم جنس وہم وزن میں زیادتی حرام ہے۔

۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ ہم جنس وہم وزن میں تو زیادتی بھی حرام ہے اور ادھار بھی لیکن اگر صرف جنس ایک ہو جیسے انڈے کے عوض انڈے یا صرف وزن ایک ہو جیسے گندم کے عوض جو تو زیادتی حلال ہے ادھار حرام ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To