Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

چھوڑنے سے پہلے بیع مکمل نہ ہوتی تو حضور اسے اقالہ کرنا نہ فرماتے۔اقالہ کے معنے ہیں بیع مکمل ہوچکنے کے بعد فسخ کرنا  اگر  ابھی مکمل ہی نہ ہوئی تو فسخ کیسا،اس سے شوافع خیار مجلس ثابت کرتے ہیں مگر ثابت ہوتا نہیں،یہ تو  ان کے خلاف ہے سیدنا عبداﷲ ابن عمر سے جو منقول ہے کہ آپ چیز خریدتے ہی وہاں سے ہٹ جاتے تھے تاکہ بائع بیع ختم نہ کردے،یہ انکا اپنا  اجتہاد ہے اور صحابی کا اجتہاد نص کے مقابل لائق پیروی نہیں۔(مرقاۃ)

2805 -[5]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَفَرَّقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عنْ تراضٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا دو شخص ایک دوسرے کو راضی کئے بغیر الگ نہ ہوں ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اثنان سے مراد تاجر خریدار ہیں یعنی ایجاب و قبول کے بعد بھی تاجر و خریدار ایک دوسرے کو چیز و قیمت سے مطمئن کرکے وہاں سے ہٹیں،دھوکا دے کر بھاگنے کی کوشش نہ کر یں اس سے بھی خیار مجلس ثابت نہیں ہوتا۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے "اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ"ایجاب و قبول کے بعد بھی ایک دوسرے کو مطمئن کردینا ضروری ہے کہ اگر کسی کو اطمینان نہ ہو تو چیز واپس کردی جائے۔

الفصل الثالث 

تیسری فصل

2806 -[6]

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم خيَّرَ أعرابيَّاً بَعْدَ الْبَيْعِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بدوی کو بیع کے بعد بھی اختیار دیا  ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہےصحیح ہےغریب ہے۔

۱؎ یعنی ایک دیہاتی نے شہر میں آکر کچھ فروخت کیا تھا پھر وہ اس فروخت پر پشیمان ہوا وہ سمجھا کہ چیزسستی بک گئی تو  آپ نے اسے چیز واپس کرلینے کا اختیار دیا،اس طرح کہ خریدار کو فسخ بیع پر راضی فرمادیا اس سے بھی خیار مجلس ثابت نہیں ہوتا کہ اگر خیار مجلس ہوتا تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے اختیار دینے کے کیا معنی ہوتے اس کا مطلب صاف ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیع مکمل ہونے کے بعد خصوصیت سے اسے اختیار دیا۔


 



Total Pages: 445

Go To