Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2794 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحلف منفقعة للسلعة ممحقة للبركة»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قسم سامان بکوانے والی ہے برکت مٹانے والی ہے ۱؎(بخاری،مسلم)

۱؎ ممکن ہے کہ یہاں الحلف میں الف لام عہدی ہو اور قسم سے مراد جھوٹی قسم ہو،برکت سے مراد آئندہ کاروبار بند ہو جانا ہو یا کیے ہوئے بیوپار میں گھاٹا پڑ جانا یعنی اگر تم نے کسی کو جھوٹی قسم کھا کر دھوکے سے  خراب مال دے دیا  وہ ایک بار تو دھوکہ کھا جائے گا مگر دوبارہ نہ آئے گا نہ کسی کو آنے دے گا یا جو رقم تم نے اس سے حاصل کرلی اس میں برکت نہ ہوگی کہ حرام میں بے برکتی ہے،صفائی معاملات سیکھو۔

2795 -[6]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحلف الْكَاذِب» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا تین شخص وہ ہیں جن سے اﷲ تعالٰی قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا نہ نظر رحمت اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ۱؎ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہیں ابوذر نے عرض کیا وہ تو ٹوٹے اور خسارہ ہی پڑ گئے یارسول اﷲ وہ کون ہیں فرمایا تہبند لٹکانے والا،احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے مال بیچنے والا ۲؎ (مسلم)

۱؎ کلام سے مراد محبت کا کلام ہے،دیکھنے سے مراد کرم کا دیکھنا ہے اور پاک فرمانے سے مراد گناہ بخشنا ہے یعنی دوسرے مسلمانوں پر یہ تینوں کرم ہوں گے مگر ان تین قسم کے لوگ ان تینوں عنایتوں سے محروم رہیں گے لہذا ان سے بچتے رہو۔

۲؎ یعنی جو فیشن کے لیے ٹخنوں سے نیچا پاجامہ تہبند استعمال کریں جیسے آجکل جاہل چودھریوں کا طریقہ ہےاور جو کسی کو کچھ صدقہ و خیرات دے کر ان کو طعنے دیں،احسان جتائیں،لوگوں میں انہیں بدنام کردیں کہ فلاں آدمی ہمارا دستِ نگر رہ چکا ہے اور جو جھوٹی قسم کھا کر دھوکا دے کر مال فروخت کریں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2796 -[7]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ معَ النبِّيِينَ والصِّدِّيقينَ والشهداءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ.

2797 -[8]وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سچا اور امانت دار بیوپاری ۱؎ پیغمبروں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۲؎(ترمذی دارمی،دارقطنی)

اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ دیگر پیشوں سے تجارت اعلٰی پیشہ ہے،پھر تجار ت میں غلہ کی،پھر کپڑے کی،پھر عطر کی تجارت افضل ہے۔ (مرقات)ضروریات زندگی اور ضروریات دینی کی تجارت دوسری تجارتوں سے بہتر پھر سچا تاجر مسلمان بڑا ہی خوش نصیب ہے کہ اسے نبیوں،ولیوں کے ساتھ حشر نصی  ب ہوتا ہے۔

۲؎ مگر یہ ہمراہی ایسی ہوگی جیسے خدام کو آقا کے ساتھ ہمراہی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ یہ تاجر نبی بن جائے گا،اچھا تاجر تاجور ہے برا تاجر فاجر ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To