$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ سوال اس سے جانکنی کے وقت ہوا یا قبر میں اور سوال کرنے والے یا تو وہ فرشتے تھے جو جان نکالنے آئے تھے یا منکر نکیر جو حساب قبر لیتے ہیں اگرچہ قبر میں صرف ایمان کا حساب ہے اعمال کا حساب تو قیامت میں ہوگا مگر یہ اس شخص کی خصوصیات سے ہے کہ اس سے قبر ہی میں اعمال کا حساب بھی ہوگیا،بعض شارحین نے فرمایا قیل بمعنی یقال ہے اور یہ واقعہ سوال و جواب کا قیامت میں ہوگامگر پہلی توجیہ قوی ہے۔ (لمعات،اشعہ،مرقات)

۲؎ معلوم ہوا کہ مرتے وقت اور قبر میں حشر میں انسان کو اپنے برے بھلے اعمال یاد ہوں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"بَلِ الْاِنۡسٰنُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ  وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیۡرَہٗ "۔

۳؎  یعنی میرے معاملات بہت درست تھے  ان میں اخلاق کو دخل تھا اگر امیر کو  ادائے قرض میں دیر لگتی تھی تو میں صبر کرتاتھا اس پر جلدی مانگ کر سختی نہ کرتا تھااور اگر میرا مقروض قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہوتا تو اسے بالکل معاف کردیتا تھا تاکہ وہ دنیا و آخرت میں پھنسا نہ رہے۔

۴؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جو بندوں پر مہربانی کرتا ہے رب تعالٰی اس پر کرم فرماتا ہےکسی کو پھانسنے کی کوشش نہ کرو بلکہ پھنسے کو نکالنے کی کوشش کرو۔دوسرے یہ کہ معمولی نیکی کو بھی معمولی سمجھ کر چھوڑ نہ دو کبھی ایک قطرہ جان بچالیتا ہے۔ ممکن ہے کہ چھوٹا عمل بخشش کا ذریعہ بن جائے  اور کوئی معمولی گناہ چھوٹا سمجھ کر  کر نہ لو کبھی چھوٹی چنگاری سارا گھر جلا ڈالتی ہے۔

۵؎ یعنی پھنسوں کو نکالنا،لوگوں پر رحم کرنا میری صفت ہے جب تو اخلاق الہیہ سے موصوف ہوا تو میں بھی تجھے بخش دیتا ہوں،یہ ہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ تخلقوا باخلاق اﷲ اللہ تعالٰی کی عادات اختیار کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان عبادات کے ساتھ معاملات بھی ٹھیک کرے۔

2793 -[4]

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بیوپار میں زیادہ قسم کھانے سے بچو ۱؎ کہ قسم مال تو بکوادیتی ہے پھر برکت مٹا دیتی ہے ۲؎(مسلم)

۱؎  بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں زیادہ قسم سے ممانعت ہے تھوڑی قسموں کی اجازت ہے کہ تجارت میں کبھی قسم کھانی ہی پڑ جاتی ہے،بعض نے فرمایا کہ جھوٹی قسموں سے ممانعت ہے سچی قسم کی اجازت ہے مگر ترجیح اسے ہے کہ مطلقًا قسم سے ممانعت ہے،کثرۃ کا لفظ اتفاقی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعٰفًا مُّضٰعَفَۃ"۔مقصد یہ ہے کہ خرید و فروخت میں سچی قسمیں بھی نہ کھاؤ کہ کبھی جھوٹی قسم بھی منہ سے نکل جائے گی نزلہ سے بچو تاکہ بخار سے محفوظ رہو۔

۲؎ یُنَفِّقُ ف کے شد اور کسرہ سے ہے تنفیق کا مضارع،انفاق سے نہیں ہے،تنفیق بمعنی ترویج ہے یعنی قسم سے لوگ دھوکا کھا کر خرید لیتے ہیں اور مال چل پڑتا ہے مگر آئندہ کو جھوٹے تاجر کا اعتبار نہیں رہتا،تجارت اعتبار پر چلتی ہے۔افسوس کہ یہ سبق مسلمان تاجر بھول گئے،کفار خصوصًا انگریزوں نے یاد کرلیا،آج ان کی راستبازی ضرب المثل بن چکی ہے اسی لیے وہ تجارت میں سب سے آگے ہیں۔

2794 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحلف منفقعة للسلعة ممحقة للبركة»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قسم سامان بکوانے والی ہے برکت مٹانے والی ہے ۱؎(بخاری،مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html