Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب المساھلۃ فی المعاملۃ

باب معاملہ میں نرمی کرنا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مساھلت سہل سے بنا بمعنی نرم زمین،صعب کا مقابل،اصطلاح میں ہر نرم چیز کو مسہل کہہ دیتے ہیں،یہاں معاملات اور لین دین میں سختی نہ کرنا مراد ہے۔معاملات سے مراد نکاح،تجارت،قرض،اجرت وغیرہ سارے کاروبار ہیں جن کا تعلق بندوں سے ہے،عبادات کا تعلق رب تعالٰی سے ہوتا ہے،مسلمان کے معاملات بھی عبادت بن جاتے ہیں اگر نیت خیر ہو۔

2790 -[1]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَى رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ اس شخص پر رحمتیں کرے جو نرم ہو جب بیچے اور خریدے اور جب تقاضا کرے ۱؎(بخاری)

۱؎ بیچنے میں نرمی یہ ہے کہ گاہک کو کم یا خراب چیز دینے کی کوشش نہ کرے اور خریدنے میں نرمی یہ ہے کہ قیمت کھری دے اور بخوبی ادا کرے،بیوپاری کو پریشان نہ کرے،تقاضے میں نرمی یہ ہے کہ جب اس کا کسی پر قرض ہو تو نرمی سے مانگے اور مجبور مقروض کو مہلت دے دے اس پر تنگی نہ کرےجس میں یہ تین صفتیں جمع ہوں وہ اﷲ کا مقبول بندہ ہے،،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ"اگر مقروض تندرست ہو تو اسے وسعت تک مہلت دے دو۔

2791 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَقيل لَهُ: هَل علمت مَنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ. قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ "

2792 -[3]

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ«فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَق بذا مِنْك تجاوزوا عَن عَبدِي»

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم سے اگلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قبض کرنے فرشتہ آیا تو اس سے کہا گیا ۱؎ کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے وہ بولا میں نہیں جانتا اس سے کہا گیا غور تو کر ۲؎ بولا اس کے سوا کچھ اور نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو معافی ۳؎ چنانچہ اﷲ نے اسے جنت میں داخل فرمادیا ۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت اسی طرح ہے عقبہ ابن عامر اور ابو مسعود انصاری سے پھر رب نے فرمایا کہ میں اس مہربانی کا تجھ سے زیادہ حقدار ہوں میرے بندے سے در گزر کرو ۵؎

 



Total Pages: 445

Go To